Aug ۱۱, ۲۰۲۳ ۱۴:۲۴ Asia/Tehran
  • پاکستان: پارلیمنٹ  کا ایک اور فیصلہ ہوا میں اڑ گیا

سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز قانون 2023 کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جو 87 صفحات پر مشتمل ہے، متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دینے کے اختیار کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے اور ایک قانون کو اس وقت کالعدم قرار نہیں دینا چاہیے جب اس کی شقیں آئین سے ہم آہنگی رکھتی ہوں۔

فیصلے کے مطابق ریویو آف ججمنٹ آئین پاکستان سے واضح طور پر متصادم ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ اس قانون کو آئین سے ہم آہنگ قرار دیا جائے۔ ہم نے آئین کا تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ کو  اس طرح بنایا گیا جیسے آئین میں ترمیم مقصود ہو، اگر اس قانون کے تحت اپیل کا حق دے دیا گیا تو مقدمہ بازی کا ایک نیا سیلاب امڈ آئے گا۔ سائیلن سپریم کورٹ سے رجوع کرنا شروع کر دیں گے ،اس بات کو سامنے رکھے بغیر کہ جو فیصلے دیے گئے ان پر عمل درآمد بھی ہوچکا۔

پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی۔ طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا اور سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔

دریں اثنا سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا ہے کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے جس میں مداخلت قابل قبول نہیں جو بینچ فیصلہ کرے وہی ریویو سننے کا اصول انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، بنچز کی تشکیل کے لیے فرد واحد کے اختیارنے عدل کو بارہا پامال کیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 19 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

ٹیگس