نیٹو کے ساتھ تعاون مشروط ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے ساتھ تعاون کو مشروط کر دیا ہے۔
اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں مدد سے قبل اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا جس ملک پر حملہ ہوا ہے اس نے امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیٹو کے رکن ممالک پر زور دیں گے کہ وہ اس دفاعی اتحاد کے اخراجات کا اتنا ہی بوجھ برداشت کریں جتنا امریکا برداشت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بذات خود جن معاہدوں کو قبول نہیں کرتے انہیں منسوخ کرکے امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی نئے سرے سے تعریف کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف صاف کہا کہ "اگر میں میکسکو اور کینیڈا کے ساتھ امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے کی شرائط بہتر بنانے کے لیے کامیاب مذاکرات نہ کر سکا تو اس معاہدے کو پھاڑ دوں گا۔
ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہو گئے تو ترکی اور دیگر ممالک کی حکومتوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاون سے روکنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو دیگر ممالک کے رویوں کو درست کرنے کے بجائے اپنے مسائل سے چھٹکارا پانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
امریکہ کے ری پبلکن صدارتی امیدوار نے کہا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی ریاست اوہائیو کے کوئیکنز لونزارینا میں منگل کے روز ہونے والے ریپلکن پارٹی کے کنونشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات آٹھ نومبر دو ہزار سولہ کو ہوں گے۔