بشار اسد کا اقتدار میں رہنے یا چلے جانے کا یورپ اور امریکا سے کوئی تعلق نہیں
روس نے کہا ہے کہ بشار اسد کا اقتدار میں رہنے یا چلے جانے کا یورپ اور امریکا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ماسکو سے ارنا کی رپورٹ کے مطابق روسی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی کمیشن کے سربراہ کنسٹاٹین کاساچیف نے دو ٹوک لفظوں میں کہا ہے کہ بشاراسد اقتدار میں رہیں یا اقتدار سے باہر چلے جائیں، یہ شام کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سے یورپ اورامریکا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا حتی روس کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس بارے میں کسی سے کوئی بات کرے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب اورعرب اتحاد کے حمایت یافتہ دہشت گرد عرصہ پانچ سال سے شام کے خلاف دشمنانہ اقدامات کر رہے ہیں جن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کنسٹاٹین کاساچیف نے کہا روس شام میں زمینی حملے کا مخالف ہے اور صرف شام کی مسلح افواج کو دہشت گردوں کے خلاف زمینی حملے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ روس خود بھی زمینی حملے کرنے کا مخالف اور دوسرے ملکوں کی جانب سے بھی شام میں زمینی کارروائی کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔
روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاؤروف نے دو ہفتے قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ ماسکو میں ہونے والی ملاقات میں صدر بشار اسد کی اقتدار سے بے دخلی کے امریکی مطالبے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا تھا۔ روس نے شام کی حکومت کی باضابطہ درخواست پر اپنے فضائی اور بحری یونٹس کوحمیم ایئر بیس پر تعینات کررکھا ہے۔