یورپ کے ایران مخالف اقدامات، پابندیوں کی نئی فہرست جاری
یورپی یونین نے ایران کے خلاف اپنے دشمنانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پابندیوں کی نئی فہرست جاری کر دی۔
یورپی یونین نے ایران کے بارے میں میزائل پابندیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق تئیس شخصیات اور چودہ عہدیداروں پر پابندی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات پر نظرثانی کی اور اس سلسلے میں نئی فہرست کا اعلان کر دیا۔
نئی فہرست کا ایسی حالت میں اعلان کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک نیز یورپی یونین نے جمعرات کے روز ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کا اعتراف کیا تھا۔
امریکہ کی سرکردگی میں مغربی ممالک اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ ایران کے میزائل تجربات سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتّیس کے منافی ہیں اور ان تجربات میں ان میزائلوں کا تجربہ بھی شامل ہے جو ایٹمی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ یورپی یونین کے خارجہ امور کی ترجمان نبیلہ مسرالی نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے میزائل تجربات، ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ بلسٹیک میزائل ایٹمی وار یڈز لے جانے کے لئۓ تیار نہیں کئے گئے ہیں اور اسے ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے کیوں کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے فتوے کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال حرام ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اعلان کیا ہے کہ وہ خود کو، ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کا پابند سمجھتا ہے۔