جنرل شکارچی: آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں ہوگی، امریکہ کا پیچھا جاری رہے گا
ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان جنرل شکارچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، اور اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو ایران اپنی شرائط کے بغیر امریکہ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
سحرنیوز/ایران: انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔ اب ایران نے دفاعی پالیسی کو ایک جارحانہ دفاع میں بدل دیا ہے، جس کا مطلب کسی ملک پر حملہ کرنا نہیں بلکہ حملہ آور کو سخت جواب دینا ہے۔
جنرل شکارچی کے مطابق، ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کرے گا، لیکن اگر کسی نے ایران پر حملہ کیا تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا اور اس وقت تک کارروائی جاری رہے گی جب تک دشمن کو سزا نہ دی جائے اور مقاصد حاصل نہ ہو جائیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، حالانکہ اس نے اپنی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی استعمال کی۔ ان کے مطابق امریکہ کے پاس اس سے زیادہ جدید ہتھیار موجود نہیں ہیں۔
جنرل شکارچی نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا میں امریکہ کے 17 فوجی اڈے قائم تھے جو اب تباہ ہو چکے ہیں، اور امریکہ اپنے اڈوں اور افواج کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے بقول یہ صورتحال امریکہ کی شکست کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اڈے اسرائیل کے تحفظ اور اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے بنائے گئے تھے۔
آخر میں انہوں نے مسلم ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ امریکہ کے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں تاکہ ایران انہیں نشانہ بنا سکے اور اپنے شہداء اور خطے کے نقصانات کا بدلہ لے سکے۔ انہوں نے دوبارہ تاکید کی کہ اگر ایران کی شرائط پوری نہ ہوئیں تو جنگ کے خاتمے کے بعد بھی امریکہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel