پزشکیان: امریکی فوجی اڈوں پر حملہ ایران پر ہونے والی جارحیت کا فطری جواب
صدر مملکت ڈاکٹر پزشکیان نے امریکی فوجی اڈوں پر حملے کو ایران پر ہونے والی جارحیت کا فطری جواب قرار دیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی فوجی جارحیت کے رد عمل میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے اقدام کو ایران پر ہونے والی جارحیت کا ایک قدرتی اور فطری جواب قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو دشمنوں کو اس مسئلے کو فرقہ واریت پھیلانے اور خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
صدر پزشکیان نے جمعرات کو ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
اس گفتگو کے دوران، صدر نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی اور غیر انسانی جارحیت کی مذمت میں ملائیشیا کی حکومت اور عوام کے اصولی اور قابل قدر موقف کو سراہا۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی متعدد رپورٹس نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کے دعوے کو ایران اور اس کی علاقائی سالمیت کے خلاف غیر قانونی اور غیر انسانی جارحیت کو جائز ٹھہرانے کا بہانہ قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن و سکون کا خواہاں ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ برادر اور مسلم ممالک کی مدد سے خطے کو اس بحران سے بچایا جا سکے گا جس کی دشمن منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے بھی اس ٹیلی فونک گفتگو میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف فوجی حملے میں اعلیٰ ایرانی رہنماؤں، کمانڈروں، عہدیداروں اور شہریوں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور ایران کی حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی اور ہمدردی کیا۔
انور ابراہیم نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت میں ملائیشیا کی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف اپنے ملک کے اصولی موقف پر زور دیا۔
وزیر اعظم انوار ابراہیم نے خطے میں مسلم امہ کے خلاف جنگ کے خاتمے اور ایران کے خلاف فوجی جارحیت کو روکنے کی ضرورت کے بارے میں ایران کے درست موقف کی تائید کی، مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے اسلامی ممالک کی سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel