روس پر نیٹو کا الزام
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے الزام لگایا ہے کہ روس کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے گوداموں کی جدیدکاری، فوجی مشقیں اور میزائل تجربات، یورپ کی سیکورٹی کے لئے خطرہ ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹنبرگ نے دعوی کیا ہے کہ روس نے امریکا کے ساتھ ہوئے اپنے معاہدے آئی این ایف کی خلاف ورزی کی ہے جس میں مختصر اور درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے کی بات کی گئی ہے-
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ روس کے اس کے قسم کے اقدامات سے یورپ میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے-
ان کا کہنا تھا کہ روس کے اقدامات نیٹو کے سبھی رکن ملکوں کے لئے باعث تشویش ہیں-
انہوں نے ماسکو سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کا احترام کرے اور اپنے دفاعی منصوبوں اور فوجی مشقوں کے بارے میں شفافیت کا مظاہرہ کرے-
نیٹو کے سکریٹری جنرل کے بیان کی ہی طرح بعض دیگر یورپی ملکوں کے حکام نے بھی بیانات دیئے ہیں-
جرمن وزیرخارجہ زیگمار گیبریل نے کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو سرد جنگ کے دور کی طرح خاص طور پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے-
ان تمام باتوں کے باوجود نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا روس کے سلسلے میں بیان بالکل انہی دعوؤں کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی حکام نے اس سلسلے میں ماسکو کے سلسلے میں کئے ہیں-
پچھلے چند برسوں کے دوران روس اور امریکا کے درمیان اختلافات میں شدت آجانے کے بعد دونوں ہی ممالک ایک دوسرے پر ماسکو اور واشنگٹن کے مابین تخفیف اسلحہ سے متعلق ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں-
امریکا اور روس نے انیس سو ستاّسی میں ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے اور اس پر انیس سو اٹھاسی سے عمل درآمد شروع ہوا-
اس معاہدے میں روس اور امریکا دونوں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ یورپ میں پانچ سو سے ساڑھے پانچ سو کلو میٹر کے فاصلے تک مارکرنے والے اپنے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو تباہ کر دیں گے-
واشنگٹن نے ماسکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحدوں پر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں کو اپ گریٹ کر کے امریکا اور روس کے درمیان ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے-
امریکا نے ساتھ ہی روس کو دھمکی بھی دی ہے کہ وہ ماسکو کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کا جواب دینے کے لئے مختلف آپشن پر غور کر رہا ہے-
امریکا نے کہا ہے کہ وہ اپنے جوابی اقدامات کے طور پر جہاں مختلف آپشن پر غور کر سکتا ہے وہیں وہ یورپ میں اپنے اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کو مزید تقویت اور حتی یورپ میں مزید میزائلوں کو نصب کر سکتا ہے-
روس نے بارہا امریکا کے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہی یورپ میں اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے-
روسی حکام کا کہنا ہے کہ ایم کے اکتالیس نامی میزائل لانچنگ پیڈ کی تنصیب جو ٹام ہاک جیسے درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کو فائر کر سکتا ہے، آئی این ایف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے-
یہ میزائل لانچنگ پیڈ رومانیہ میں امریکا نے نصب کیا ہے اور مستقبل میں وہ پولینڈ میں بھی اس میزائل لانچنگ پیڈ کو نصب کرنا چاہتا ہے-