ایٹمی معاہدے کے بارے امریکہ کو انتباہ
ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کی قیاس آرائیوں کے بعد واشنگٹن کے اس اقدام کے بارے میں انتباہات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
ایٹمی معاہدے میں اصلاح کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ مہلت میں صرف پانچ ہفتے کا وقت باقی رہ گیا ہے۔ ٹرمپ نے بارہ جنوری کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایٹمی معاہدے میں بارہ مئی تک اصلاح نہ کی گئی تو امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا۔اسی دوران اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے کو برا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کو قبول یا اسے مسترد کردے۔دوسری جانب بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سرغنہ یوسی کوھن نے دعوی کیا ہے کہ اسے سو فی صد یقین ہے کہ ایران اب بھی ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور عالمی برداری کو چاہیے کہ وہ ایٹمی معاہدے کو نابود یا اس میں تبدیلیاں کرے۔درایں اثنا امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی حکام جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں غور و خوص کر رہے ہیں لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ اگلے مرحلے میں کیا ہوگا اور ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کی صورت میں ایران کس قسم کا ردعمل ظاہر کرے گا۔ان حالات میں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے بارے میں انتباہات کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے اور جرمن خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ناربرٹ روتگن نے مقامی جریدے کو انٹریو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ ایٹمی معاہدے سے نکل گئے تو بحر اقیانوس کے دونوں جانب دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عظیم تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور امریکہ و یورپ کے درمیان پہلی بار سنگین اختلافات پیدا ہوجائیں گے۔مسٹر روتگن نے، یورپی ملکوں اور چین و روس کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمارے مد مقابل ہوگا اور آپ تصور کریں کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان یہ شگاف کس قدر المناک ہوسکتا ہے۔امریکہ میں فرانس کے سفیر جرار آرو نے بھی کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے والوں کو یہ جواب بھی دینا چاہیے کہ اگر ایران نے یورینیئم کی افزودگی پھر سے شروع کردی تو، وہ کیا کریں گے -