روس نے بھی ڈالر کو جھٹکا دینے کا اعلان کردیا
ایران روس اور ترکی نے باہمی تجارتی لین میں امریکی ڈالر کے بجائے قومی کرنسیوں سے کام لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب مولود چاؤش اوغلو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ ترکی، ایران اور روس باہمی تجارتی لین دین سے ڈالر کو نکال باہر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ باہمی تجارتی لین دین میں امریکی ڈالر کے بجائے قومی کرنسیوں کو استعمال میں لایا جائے۔انہون نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ کی جانب سے ڈالر کے غلط استعمال کے باعث ممکن ہے دنیا کے دیگر ممالک بھی ڈالر کو ترک کرنے پر آمادہ ہوجائيں۔سرگئی لاؤروف نے کہا کہ روس، ایران اور ترکی کے ساتھ تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کو تیار ہے۔روس کے نائب وزیر خزانہ اینٹون سلوانوف نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماسکو امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو آمادہ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس عنقریب تجارتی لین دین میں ڈالر کے کردار کو کم سے کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔روس کے نائب وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ماسکو اپنے تیل کے سودے بھی ڈالر کے بجائے یورو حتی دوسرے ملکوں کی قومی کرنسیوں میں کرنے کو تیار ہےروسی صدر کے ترجمان دی متری پسکوف نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک ترکی کے ساتھ تجارتی لین ، دونوں ملکوں کی قومی کرنسیوں کی قدر کے مطابق انجام دینے پر غور کر رہا ہے۔ایران پہلے ہی سرکاری طور پر ڈالر کے بجائے یورو میں کاروبار کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ ایرانی کرنسی کی قیمت کا تعین ڈالر کے بجائے یورو کی اساس پر کیا جارہا ہے۔ادھر ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ امریکہ ترکی میں فوجی بغاوت کے ذریعے جو اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے انہیں وہ اقتصادی جنگ کے ذریعے حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ڈالر کے ذریعے ترک معیشت پر حملہ کیا ہے لیکن انقرہ بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا ہے اور ہم دوسرے راستوں سے امریکہ کو نشانہ بنائيں گے۔ایران، ترکی اور روس کے خلاف امریکہ کی یک طرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کے پیش نظر عالمی تجارت میں ڈالر کی اجارہ داری ختم کرنے کی کوشش تیز ہوگئي ہے۔