امریکہ اور سعودی عرب کے تخریبی اقدامات کی مذمت کا مطالبہ
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام دو الگ الگ مراسلوں میں ایران کے خلاف امریکی وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام ایران کی سلامتی اور معیشت کے خلاف تخریبی اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کی جانب سے ارسال کردہ مراسلوں میں امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو قحط میں مبتلا کرنے کی دھمکی دی تھی، کہا گیا ہے کہ اس قسم کے بیانات امریکی پالیسیوں کا حصہ اور ایرانی عوام کے خلاف دباؤ اور اقتصادی جنگ شروع کرنے کی عملی دھمکی ہے۔
ایران کے نمائندہ دفتر کے مراسلے میں امریکی پابندیوں کے دوبارہ آغاز کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی عوام کو دواؤں، میڈیکل آلات اور علاج و معالجے جیسی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ وائٹ ہاوس کے یہ اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کا واضح نمونہ ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کے مراسلوں میں واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی عوام کے خلاف امریکہ کی یک طرفہ پابندیاں جامع ایٹمی معاہدے، سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیرمین کے نام ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کے خط میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو واشنگٹن کی منھ زوری کا واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ ایرانی عوام کو اجتماعی سزا دینے کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کی پابندی کرنے والے دنیا کے دیگر ملکوں کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔
ایران کے مستقل نمائندہ دفتر نے اپنے مراسلوں میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی اور کثیر فریقی تعاون کے لیے خطرہ بننے والے امریکی اقدامات کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور واشنگٹن کو مسلمہ عالمی اصولوں اور ضابطوں کی پابندی پر مجبور کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیرمین کے نام ایران کے نمائندہ دفتر کے ایک اور مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکام ایران کی سلامتی اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے تخریبی اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ایران کے مستقل نمائندہ دفتر نے اس مراسلے میں سعودی حکام کے ایسے بیانات کا ذکر کیا ہے جن میں انہوں نے جھڑپوں کا دائرہ ایران کے اندر منتقل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس مراسلے میں سعودی عرب کی جانب سے بعض دہشت گرد گروہوں کی حمایت کو تخریبی اقدامات کا واضح ثبوت قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کے مراسلے میں ایسی رپورٹوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے جو سعودی حکام کی جانب سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانے اور کرائے کے دہشت گردوں کے ذریعے ایرانی عہدیداروں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے سامنے آچکی ہیں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے سعودی حکومت کے یہ اقدامات خطے میں عدم استحکام پھیلانے والے اس کے اقدامات کا حصہ ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کی جانب سے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام اپنے مراسلے میں یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ عالمی برادری سعودی عرب کو جنگی جرائم روکنے پر مجبور اور یمن میں انجام پانے والے جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دے۔