افغان طالبان اور امریکا کے مذاکرات معطل
افغان طالبان نے امریکی حکام سے طے شدہ مذاکرات ایجنڈے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث منسوخ کردیے ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق مذاکرات کا نیا دور آج بدھ کے روز سے قطر میں شروع ہونا تھا،اس حوالے سے افغان طالبان کا کہنا ہے کہ مذاکرات فریقین کے اتفاق کے بعد منسوخ کئے گئے ہیں۔
منگل کے روز طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات میں تعطل کی وجہ گفتگو کے ایجنڈےپراتفاق نہ ہونا ہے۔ اس موقع پر طالبان نے مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت کو بھی مسترد کردیا۔
علاقائی قوتوں کی جانب سے بارہا یہ اصرار کیا جاتا رہا تھا کہ طالبان امریکا مذاکرات میں افغان حکومت کو بھی شامل کیا جائے لیکن وہ افغان حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے امریکا کو اپنا مرکزی حریف قرار دیتے ہیں جو گزشتہ 17 برس سے افغان طالبان سے جنگ لڑ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے 2017ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد طالبان کے خلاف مزید افواج کی منظوری دی اور اب وہاں امریکی افواج کی تعداد بڑھ کر 14 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا گزشتہ دور ابوظہبی میں ہوا تھا جس میں متحدہ عرب امارات، اور پاکستان کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا تھا۔