Mar ۱۷, ۲۰۲۱ ۰۸:۳۳ Asia/Tehran
  • سری لنکا میں حجاب پر پابندی سے متعلق  اندرونی کہانی سامنے آ گئی

مسلمان خواتین پر برقع اور حجاب سے چہرہ ڈھانپنے کی پابندی سے متعلق سری لنکا کی حکومت نے وضاحت کردی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ برقعے اور حجاب پر پابندی محض تجویز تھی جس کی تاحال منظوری نہیں دی گئی۔

واضح رہے کہ 3 روز قبل سری لنکا کے قومی سلامتی کے وزیر سارتھ ویراسکیرا نے برقعے کو شدت پسندی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک بھر میں نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی دستاویز پر دستخط کردیے گئے ہیں اور اسے کابینہ سے منظور کرایا جائے گا۔

تاہم منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس میں حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدام مشاورت کے بغیر نہیں ہوسکتا جس کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔

درایں اثنا سری لنکا کی وزارت خارجہ نے بھی نقاب پہنے پر پابندی سے متعلق یہی موقف اختیار کیا ہے۔

 بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سری لنکا نے حجاب پرپابندی کے فیصلے سے اس لیے پسپائی اختیار کی ہے کہ آئندہ ہفتے جنیوا میں سری لنکا کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں قرار داد پیش ہونے والی ہے۔

 اس اجلاس میں ووٹ دینے والے 47 ممالک میں پاکستان، بنگلادیش سمیت مسلم اکثریت رکھنے والے ممالک کی تعداد دوتہائی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر انسانی حقوق سے متعلق سری لنکا کے خلاف قرارداد منظور ہوجاتی ہے تو اس کی حکومت اور عسکری حکام کو 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات پرکارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ سری لنکا کی 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی میں 9 فیصد مسلمان ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق وہاں آباد تامیل قوم سے ہے۔

ٹیگس