-
غریب ممالک میں گرمی کی لہریں خطرناک ثابت ہو رہی ہیں
Nov ۰۲, ۲۰۲۲ ۰۳:۴۴ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے ممالک میں گرمی کی لہریں (ہیٹ ویو) عام ہوگئی ہیں اور مختصر ہیٹ ویو سے ان ممالک پر پورے سال منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ مختصر وقفے کی ہیٹ ویو سے پورے سال جی ڈی پی کی شرح 7 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔
-
آرمینیا کے وزیر اعظم کا تہران میں زبردست استقبال+ ویڈیو
Nov ۰۱, ۲۰۲۲ ۰۸:۴۴آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان کا تہران میں عظیم الشان استقبال کیا گیا۔
-
موسمیاتی بحران، گوشت کا استعمال کم کرنے کا مشورہ
Nov ۰۱, ۲۰۲۲ ۰۸:۳۸ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر ہفتے فی شخص کھائے جانے والے دو برگر میں استعمال کیے جانے والے بیف کے برابر گوشت کی کھپت میں کمی سے موسمیاتی بحران کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
-
ہندوستان، پل گرنے کا ذمہ دار کون؟ ویڈیو
Oct ۳۱, ۲۰۲۲ ۰۸:۴۷ہندوستان کی ریاست گجرات کے ضلع موربی میں اتوار کی شام ندی پر بنے پل کے گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 141 ہوگئی ہے۔
-
چہل قدمی کرنا چاہتے ہیں تو یہ خاص جوتے لیں!
Oct ۳۱, ۲۰۲۲ ۰۸:۳۶ایک نئی کمپنی نے دنیا کے تیزرفتار ترین جوتے بنانے کا اعلان کیا ہے جو عام چلنے کو دوڑنےمیں بدلتے ہوئے آپ کی رفتار کو ڈھائی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ اسے جوتے اور اسکیٹ کے درمیان کی کوئی شے کہا جاسکتا ہے۔
-
دشمنوں کو ایرانی قوم کا پیغام+ ویڈیو
Oct ۳۰, ۲۰۲۲ ۰۳:۱۶مشہد مقدس میں شاہ چراغ کے روضے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والوں کا جلوس جنازہ نکالا گیا۔
-
ریفریجریٹر میں رکھی چیزوں کے بارے میں پریشان نہ ہوں!
Oct ۳۰, ۲۰۲۲ ۰۳:۰۲ایک چھوٹا سا آلہ کھانے کو تادیر تازہ رکھتے ہوئے اس نقصان کو کم کرسکتا ہے اور دوسری جانب ریفریجریٹر کی بو بھی کم کرسکتا ہے۔
-
پورے ایران میں مظاہرے+ ویڈیوز
Oct ۲۹, ۲۰۲۲ ۰۴:۲۵نماز جمعہ کے بعد پورے ایران میں دہشت گردی کی مذمت کے لئے مظاہرے ہوئے۔
-
کیا شہد کی مکھیاں بجلی پیدا کرسکتی ہیں؟
Oct ۲۹, ۲۰۲۲ ۰۴:۱۷ماہرین نے کہا کہ شہد کی مکھیوں کا جھنڈ اور اڑنے والے کیڑوں کی سرگرمی سے فضا میں عین وہی برقی کیفیات پیدا ہوسکتی ہے جو بجلی بھرے گرجنے والے بادل سے وجود میں آتی ہے۔
-
ڈسپوزایبل کپ کتنی مقدار میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات خارج کرتے ہیں؟
Oct ۲۸, ۲۰۲۲ ۰۳:۴۵ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ڈسپوز ایبل کپ میں ہفتے میں ایک بار کافی پینے سے ہمارے جسم میں سالانہ 90 ہزار ممکنہ نقصان دہ پلاسٹک کے ذرات داخل ہوسکتے ہیں۔