• امریکہ اور اسرائیل، شام میں عدم استحکام کے اصل ذمہ دار

امریکی حکام نے ، شام کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے توسط سے اسرائیل کا ایف سولہ جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے تقریبا ایک ہفتے کے بعد صیہونی حکومت کی حمایت کے دائرے میں، اس بات کا دعوی کیا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی علاقے میں عدم استحکام کا باعث ہے۔

 امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے بدھ کو امان میں اردن کے وزیرخارجہ ایمن الصفدی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں، اوراقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نیکی ہیلی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیک وقت، شام کے بارے میں ایران مخالف موقف اپناتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران ہی شام میں عدم استحکام کا باعث ہے اور اسے اپنے فوجیوں کو شام سے باہر نکال لینا چاہئے۔

دس فروری 2018 کو جولان کے مقبوضہ علاقے میں، شام کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے توسط سے  اسرائیل کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد، شام کے حالات تبدیل ہوگئے ہیں اور صیہونیوں اور ان کے حامیوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ شامی فوج کے ٹھکانوں پر یکطرفہ حملے کا زمانہ اب ختم ہوچکا ہے اور اگر کسی نے بھی شام کے خلاف جارحیت کی تو اسے شام کے سخت منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شام کے خلاف اسرائیل کے پے در پے حملے، اور داعش سے مقابلے کے بہانے شامی کردوں کی حمایت کے سائے میں، اس ملک میں امریکہ کا مبھم اور نامعلوم کردار، شام اور علاقے کےغیر مستحکم ہونے کا باعث بنا ہے۔

شام میں امریکیوں کی غیر قانونی موجودگی اور اس کی جانب سے صہیونیوں کے جارحانہ اقدامات کی حمایت، دہشت گردوں کی بقا پر منتج ہو‏ئی ہے۔ لیکن ایران، شام کے صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کی درخواست پر اس ملک میں موجود ہے اور ان  دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے کہ جو دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے ایک نام نہاد اتحاد تشکیل دے کر امریکی قیادت میں لڑ رہے ہیں تاہم اس سلسلے میں امریکی پالیسی، مبھم اور مشکوک ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے منگل کے روز کویت میں داعش مخالف امریکی اتحاد کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں داعش مخالف امریکی اتحاد کے اقدامات پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے۔ کویت میں داعش مخالف امریکی اتحاد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس اتحاد نے دہشت گرد گروہوں کے مالی ذرائع ختم کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اسباب اور موجودہ تبدیلیوں کے بارے میں داعش مخالف امریکی اتحاد کا موقف حقائق پر استوار نہیں ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ نے دہشت گردی کی مختلف شکلوں کو عرب ملکوں اور دنیا بھر کے ممالک کے لئے اہم ترین خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکہ کی سرکردگی میں قائم نام نہاد داعش مخالف اتحاد کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منگل کو کویت میں ہوا تھا جس میں تقریبا ستر ممالک اور چارعالمی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔

اگر امریکی اتحاد دہشت گردی سے مقابلے میں حقیقی کردار ادا کرتا تو آج شام اور علاقے میں ہم، مزید استحکام کا مشاہدہ کرتے لیکن شام کے بحران کو تقریبا سات سال کا عرصہ گذرجانے کے باوجود امریکی اتحاد کو دہشت گردی سے مقابلے کی مہم میں کوئی کامیابی نہ ملنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شام اور علاقے کو غیر مستحکم کرنے میں امریکہ اور اسرائیل کا کردار ہے۔ جتنی بار بھی شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردوں پر زمین تنگ کی ہے امریکہ دہشت گردوں کی حمایت میں سامنے آیا ہے ۔ مثال کے طور پر شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں داعش کو شکست دینے کے لئے انجام پانے والی کوششوں کے عروج پر پہنچتے ہی امریکہ داعشیوں کی مدد کے لئے میدان میں آگیا۔

اسی سلسلے میں شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے بدھ کو اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے طیارے کے ذریعےایک ہزار داعشیوں کو رقہ سے دیروالزور منتقل کیا ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ کے ان اقدامات کے خلاف تحقیقات انجام دے کہ جو شام میں عدم استحکام کا باعث بنے ہیں اور اس کا مقصد شام کے اقتدار اعلی پر حملہ کرنا ہے۔ اس بناء پر وہ چیز جو شام اور مشرق وسطی کے علاقے میں عدم استحکام کا باعث ہے، شام یا عراق میں ایران کا مثبت کردار یا اس کی قانونی موجودگی نہیں ہے بلکہ اس عدم استحکام کا باعث، شام کے تعلق سے امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کے جارحانہ رویے ہیں جو شام کی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

شام میں مختلف اڈے قائم کرنے کی امریکی کوشش ، شمالی شام میں مقامی فورس کی تشکیل دینے کی کوشش، اور دمشق حکومت پر کیمیاوی ہتھیاروں کا الزام لگانے کی کوشش سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ شام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ شام میں امریکہ کے یہ اقدامات، علاقے کے بازیگروں منجملہ ایران اور روس کی کوششوں کے مقابلے میں ہیں کہ جو شام میں استحکام پیدا کرنے کی غرض سے دمشق حکومت کے ساتھ تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔         

 

Feb ۱۵, ۲۰۱۸ ۱۶:۵۷ Asia/Tehran
کمنٹس