Feb ۱۹, ۲۰۱۸ ۱۷:۰۰ Asia/Tehran
  • میونیخ سیکورٹی کانفرنس

عالمی امن کے سلسلے میں منفی نقطہ نگاہ کے ساتھ چونویں میونیخ سیکورٹی کانفرنس اٹھارہ فروری کو اختتام پذیر ہوگئی۔

میونیخ سیکورٹی کانفرنس عالمی امن و سلامتی کے بارے میں غور و فکر کے لئے منعقد ہوتی ہے- میونیخ کانفرنس کے بارے میں جرمن ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ جو کانفرنس عالمی امن کے لئے ہوئی تھی اس میں بدامنی کی تاریک تصویر پیش کی گئی- اس کانفرنس سے حاصل ہونے والے نتائج کے بارے میں میونیخ سیکورٹی کانفرنس کے سربراہ وولفگانگ ایشینگر نے سرد مہری کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم نے یہ سنا کہ دنیا میں کس طرح کے غلط رویے پائے جاتے ہیں ، خطرات کیا ہیں؟ اور ہمیں کن کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے لیکن ہم نےان اقدامات کے بارے میں بہت کم سنا کہ جو اس تاریک نقطہ نظر کو بہتر بنا سکتے تھے- 

سہ روزہ میونیخ اجلاس میں دنیا کے پانچ براعظموں کے سیکڑوں ماہرین اورحکام نے شرکت کی تھی - میونیخ سیکورٹی کانفرنس سیکورٹی کے میدان میں ایک اہم عالمی اجلاس ہے کہ جسے دنیا کے ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقے خاص اہمیت دیتے ہیں - جانے پہچانے ماہرین اور حکام اس میں شرکت اور عالمی امن و سیکورٹی کے سلسلے میں اپنے نظریات و خیالات کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں- میونیخ سیکورٹی کانفرنس دوہزاراٹھارہ میں نیٹو کے اراکین کے درمیان اختلافات اور اٹلانٹیک کے دونوں جانب کے اتحادیوں کے تعلقات میں کشیدگی کے مختلف پہلؤوں منجملہ اس اتحاد کے رکن ممالک کے بجٹ سے لے کر روس کے ساتھ مغرب کے تعلقات میں کشیدگی اور مشرق وسطی میں بحران کے مراکز کے بارے میں گفتگو ہوئی-

جرمنی کے وزیرخارجہ زیگمار گابریل نے اپنے بیان میں اس نکتے کا کھل کراعتراف کیا کہ ہم آج کے امریکہ کو نہیں پہچانتے- انھوں نے امریکہ و یورپ کے درمیان گہرے اختلافات کا بھی اعتراف کیا- جرمنی کے وزیرخارجہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا ایک خطرناک کھائی کے کنارے پر کھڑی ہے ، یورپ کے مزید کردار ادا کرنے پر تاکید کی- کانفرنس کے سربراہ ولفگانگ ایشینگر نے ٹرمپ پر تنقید کی اور کہا کہ ٹرمپ نہ صرف دھمکی دیتے ہیں بلکہ ہتھیار کے بل پر دنیا میں پولیس مین کا کردارادا کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ کردار برسوں پہلے ختم ہوچکا ہے-امریکہ اور صیہونی حکومت جیسی بعض حکومتوں نے اس کانفرنس کو اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دیگرممالک کو دھمکی دینے اور نفرت پھیلانے کے لئے ایک موقع میں تبدیل کردیا - امریکہ کی قومی سلامتی کمیشن کے مشیر میک مسٹر اور صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی ہنگامہ آرائیوں پر مبنی بیانات میں اسلامی جمہوریہ ایران کو خطرہ ظاہرکرنے کی کوشش کی اور اس کے خلاف بے بنیاد دعوے کئے جسے عالمی ذرائع ابلاغ نے کافی زیادہ کوریج دی- البتہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ان بے بنیاد دعؤوں کا منھ توڑ جواب دیا- امریکہ کے سابق وزیرخارجہ جان کیری کی ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کی ضرورت پر تاکید نے اس سلسلے میں امریکی رہنماؤں کے درمیان دھڑے بندی کی ایک اور مثال پیش کردی-صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے میونیخ سیکورٹی کانفرنس کے تیسرے دن بے بنیاد دعوے کئے انھوں نے اپنے ہاتھ میں لوہے کا ایک ٹکڑا دکھا کراسے ایران کے ایک ڈرون طیارے کا حصہ بتایا اور ایک بار پھراسلامی جمہوریہ ایران کو دھمکی دی- ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی نیتن یاہو کے بیانات کے جواب میں اسے ایک مضحکہ خیز ڈرامہ قراردیا کہ جو جواب دینے کے بھی قابل نہیں ہے- انھوں نے اپنے مخاطبین کو سنجیدہ موضوعات پر غوروفکر کرنے کی دعوت دی-

ٹیگس

کمنٹس