Feb ۰۸, ۲۰۲۶ ۱۸:۴۶ Asia/Tehran
  • غزہ میں صیہونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں  کا سلسلہ جاری

صیہونی حکومت روزانہ کی بنیاد پر غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں کا قتل عام اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کو داخل ہونے سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، امریکی حکومت نے نام نہاد غزہ بورڈ آف پیس کو ایک ایسے طریقہ کار کے طور پر متعارف کرایا ہے جو بظاہر تعمیر نو پر مرکوز ہے، لیکن عملی طور پر یہ بورڈ صیہونی حکومت کے اہداف کو آگے بڑھانے کے ایک جدید ہتھکنڈے میں تبدیل ہوگیا ہے

سحرنیوز/عالم اسلام:    مشرق وسطی کی تازہ ترین صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں نسبتاً تبدیلی کی رجحان کے باوجود مسئلہ فلسطین اب بھی اہم علاقائی اور عالمی بحرانوں میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ کا غزہ میں جنگ کے خاتمے کا دعوی نہ صرف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی حالات سے بھی آشکارا طور پر متصادم ہے۔ جہاں فلسطینی اپنا تیسرا موسم سرما صہیونی غاصبوں کے ہاتھوں نسل کشی کے حالات میں بغیر پناہگاہوں، خوراک اور تحفظ کے گزار رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دس اکتوبر دوہزار پچیس کو امریکی دباؤ پر نافذ ہونے والی غزہ جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک صیہونی حکومت نے نہ صرف اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی ہے بلکہ فضائی حملوں اور براہ راست فائرنگ کے ذریعے چار سو پچاس سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔

 

ایسے حالات میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے " نام نہاد غزہ بورڈ آف پیس" کو ایک "بین الاقوامی" بورڈ کے طور پر متعارف کرانا سامراجی میکانزم کو ایک نئی شکل میں متعارف کرانے کی واضح کوشش ہے۔ یہ بورڈ کہ جو اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، غزہ کی تعمیر نو کے لیے نہیں، بلکہ جنگ جاری رکھنے اور فلسطینیوں کی مزید نسلی تطہیر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

علاقائی سطح پر یہ بورڈ بھی علاقائی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا اکھاڑا بن چکی ہے۔ نیتن یاہو اسے سفارتی دباؤ کو روکنے اور صیہونی فوج کی کارروائیوں میں آزادی عمل کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

غزہ کی جنگ نے نہ صرف فلسطین کے مسئلے کو حل نہیں کیا ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کردیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ پر فتح حاصل کرنے اور اس تحریک کو غیر مسلح کرنے میں صیہونی حکومت کی ناکامی نے، شمالی محاذ کی خفت و رسوائی کو دوچنداں کردیاہے -

ان تمام پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی نے اگرچہ جنگ کے روزمرہ کے منظر نامے کو بظاہر تبدیل کر دیا ہے، لیکن پورے غزہ پر ان کا تسلط اورقبضہ اب بھی باقی ہے اور غزہ پہلے کی طرح ایک قتل گاہ بن چکا ہے۔

جنگ بندی کی ابتر صورتحال ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ سامراجی طاقتوں اور علاقائی حکومتوں کے درمیان مذاکرات ، فلسطین کی آزادی کا باعث نہیں بن سکتے۔ ہر ناکام جنگ بندی ہمیں بار بار اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ فلسطین کی آزادی حکومتی معاہدوں اور سمجھوتوں سے نہیں بلکہ دنیا میں ایک عوامی جدوجہد کے ذریعے ممکن ہے۔ ایک ایسی طاقت جو صیہونی حکومت اور اس کے سامراجی حامیوں کے خلاف طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔

 

ٹیگس