• جہانگیری کا دورہ بغداد اور ایران و عراق اسٹریٹیجک تعاون

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری، عراق کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ یہ دورہ، اس بات کی علامت ہے کہ داعش کے وجود سے عراق کے پاک ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ ملا ہے۔

بدھ کو بغداد میں جہانگیری کا استقبال وزیر اعظم حیدرالعبادی نے کیا اور پھر دونوں فریق نے مذاکرات انجام دیئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر نے بغداد میں حیدر العبادی کے ساتھ مذاکرات میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے درمیان خوشگوار اور تعمیری تعلقات قائم ہیں کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مختلف شعبوں میں بہت اچھے ہیں اور تہران و بغداد کے سیاسی تعلقات اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بھی اس اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کوئی بھی ایران اور عراق کے تعلقات کو خراب نہیں کرسکتا اور عراق تمام شعبوں منجملہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرے گا-

ایران و عراق کے درمیان طولانی اور مشترکہ سرحد پائی جاتی ہے اور دونوں ملکوں کی قوموں میں دیرینہ تعلقات اور تاریخی ، ثقافتی، اور مذہبی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کی بنیاد پر دونوں ملکوں نے ہمیشہ اپنے تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ ان تعلقات کا 2003 کے بعد اور ڈکٹیٹر صدام کی بعثی حکومت کے سقوط کے بعد، سیاسی پہلوؤں سے بھرپور جائزہ لیا گیا اور آج ایران و عراق کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں ۔ مشترکہ ثقافت ہونے کے سبب ایران اور عراق کے عوام کے تعلقات کی بنیاد، دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعلقات ہیں۔ اور یہ امر ایران اور عراق کے اسٹریٹیجک تعاون میں فروغ کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کے باہمی رابطوں نے ایران اور عراق کو دو قابل اعتماد شریک میں تبدیل کردیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کے شانہ بشانہ اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت، اسی اعتماد کی علامت ہے۔ 

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کے ساتھ ایران کے تعمیری تعاون نے واضح کردیا کہ ایران نے پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا ہے اور عراق میں امن و سلامتی کے قیام کو اپنی سلامتی جانا ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کے بحران سے عراق کے کامیابی کے ساتھ نکل جانے کے بعد ، تہران اور بغداد کے درمیان تعلقات کا ناگزیرہونا واضح ہو گیا ہے اور یہ بھی کہ ان تعلقات کی جڑیں دونوں ملکوں کے عوام کے دیرینہ تعلقات اور مشترکہ ثقافت میں پیوست ہیں۔  

سیاسی اور سیکورٹی کے مسائل کے علاوہ، ایران نے اقتصادی پہلو سے بھی عراق کی معاشی ترقی میں اہم کردار اد کیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس ملک کی تعمیر نو کے لئے سو ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس مسئلے پر بھی ایران نے خاص توجہ دی ہے۔

اسی تناظر میں اسحاق جہانگیری کے بغداد میں پہنچنے کے وقت ایران نے اعلان کیا کہ وہ عراق کو تین ارب ڈالر دینے کو تیار ہے تاکہ ایرانی کمپنیاں اور نجی شعبے عراق کی تعمیر نو میں ٹھوس مشارکت کرسکیں۔ 

ایران کو سڑک کی تعمیر، ریلوے ٹریک بچھانے اور طبی نیز ٹیکنیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی اچھے تجربے حاصل ہیں اور وہ عراق میں داعش کے خاتمے کے بعد اس ملک کی تباہ کاریوں کی تعمیر نو میں تیزی لانے کے لئے اپنے تجربے پیش کرسکتا ہے۔ اس وقت عراق وہ دوسرا ملک ہے جہاں ایران کی غیر پٹرولیم اشیاء سب سے زیادہ برآمد کی جاتی ہیں اور گذشتہ نو مہینوں میں دونوں ملکوں کا تجارتی لین دین، چھ ارب ایک سو بتیس ملین ڈالر تھا۔ ایران اور عراق کے اقتصادی تعلقات اور اس کے متنوع ہونے کے پیش نظر اس سلسلے میں تعاون کی ایک جامع دستاویز تیار کیا جانا ضروری سمجھا رہا ہے کہ جس پر اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری کے دورۂ عراق کے موقع پر توجہ دی گئی ہے۔        

ٹیگس

Mar ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۷:۳۵ Asia/Tehran
کمنٹس