• عالمی امن کی حمایت کے تعلق سے ٹرمپ کے دعوے پر ظریف کا جواب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آٹھ مئی کو باضابطہ طور پر ایٹمی معاہدے سے نکل گئے ہیں اور منگل سات اگست کو انہوں نے ایک بار پھر ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کردی ہیں-

ٹرمپ اب تک ، دیگرملکوں پر امریکہ کی یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کو منوانے کی غرض سے بہت زیادہ دباؤ ڈال چکے ہیں اور وہ اس بات کا بھی دعوی کر رہے ہیں کہ ان کے اس اقدام کا مقصد عالمی امن قائم کرنا ہے- 

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ، نام نہاد عالمی امن کے قیام کے لئے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کے بارے میں ٹرمپ کے ٹوئیٹر پیغام کے جواب میں لکھا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ایک جنگ پسند ، عالمی امن کے قیام کی آڑ میں جنگ چھیڑ رہا ہے- 

عالمی رائے عامہ یقینا یہ بات بھولی نہیں ہے کہ امریکہ اسی امن و دوستی کے دعوے کے ساتھ جنگ ویتنام میں شامل ہوا تھا لیکن شرمندگی و پشیمانی کے ساتھ  شکست خوردہ ، جنگ سے واپس لوٹا تھا - امریکہ نے اسی دعوے کے ساتھ جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناکاساکی پر ایٹم بم بھی گرائے اور اسی دعوے کے ساتھ صدام کو ایران کے خلاف جنگ کے لئے ورغلایا اور اس کی حمایت کی- امریکہ نے ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دوران بھی امن  کی حمایت کی آڑ میں، جارح کی حمایت کے مقصد سے ایران کے مسافربردار طیارے کو، جس میں 290 مسافر سوار تھے دو میزائلوں سے نشانہ بناکر خلیج فارس میں مار گرایا تھا ۔ امریکہ نے اسی طرح مسلط کردہ جنگ کے دوران عراق کو کیمیائی ہتھیار بھی دیئے کہ جس کا سردشت اور حلبچہ کے عوام  کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا- امریکہ اس وقت بھی یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ اور جارحانہ حملوں نیز فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم کی حمایت کر رہا ہے اورپھر بھی اس بات کا مدعی ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے میں کوشاں ہے- 

آج عالمی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کے سبب، امریکی اقدامات پر لوگوں میں نفرت اور تشویش پائی جاتی ہے- سوئٹزرلینڈ کے اخبار " نویہ زوریخہ سایٹونگ" نے تہران کے خلاف ٹرمپ کے کھیل کو خطرناک بتایا ہے اور لکھتا ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں، علاقے کے لئے غیر متوقع نتائج کی حامل ہوں گی 

ٹرمپ ایسی حالت میں عالمی امن و سلامتی کی بات کر رہے ہیں کہ ان کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے مارچ 2015 میں نیویارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں ایران پر بمباری کی بات کہی تھی- اب امریکہ کی کوشش ہے کہ ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں کہ ایران دنیا کے ملکوں کے ساتھ تجارت سے محروم ہوجائے اور امریکی ڈالر تک اس کی دسترسی نہ ہوسکے اور وہ سونے اور قیمتی دھاتوں کے ذریعے بھی تجارت نہ کرسکے۔ 

آئندہ تین مہینوں کے بعد یعنی نومبر کے مہینے میں بھی امریکہ، ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنے زعم ناقص میں اس اقدام کے ذریعے ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے، اور ایران کے قرضوں کی ادائیگی سے بھی دیگر ملکوں کو روکنے کے درپے ہے-

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سات اگست کو ایک بار پھرایران کے خلاف غیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کے بعد کہا ہے کہ منگل 7 اگست سے ایرانی گاڑیوں کی صنعت، سونے اور کرنسی کی پابندیوں پر عمل درآمد شروع ہوگا جبکہ بینکنگ اور تیل پر پابندیوں کا اطلاق 5 نومبر 2018 سے ہوگا۔ 

اس وقت بہت سے سیاسی مبصرین ایران کے خلاف ٹرمپ کے رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ریچرڈ نفیو نے ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کو بےمعنی قرار دیا ہے۔ وہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایران ایٹمی معاہدے کا پابند ہے اور یہ چیز امریکہ کے فائدے میں نہیں ہے کہ وہ اس معاہدے کو پابندیوں کے ذریعے کمزور کرے- 

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئٹ میں  کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں ایرانی عوام کی حالت پر تشویش لاحق ہے لیکن انہوں نے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات اور بہانوں کے ذریعے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر کے ، 200 مسافر بردار طیاروں کی فروخت کی راہ میں رکاوٹ  ڈال دی ہے جس سےایرانی عوام کی جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایرانی قوم کے خلاف دشمنانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ منافقت میں سب سے آگے ہے۔

 

       

ٹیگس

Aug ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۷:۱۳ Asia/Tehran
کمنٹس