Jul ۲۰, ۲۰۱۹ ۱۲:۵۲ Asia/Tehran
  • یمن کو سب سے بڑے انسانی المیہ کا سامنا

آل سعود حکومت نے دعویٰ  کیا ہے کہ سعودی عرب یمن کی مدد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یمن کو سعودی جارحیت کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے المیہ کا سامنا ہے۔

یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ کو چار سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے اور اس جنگ سے مختلف شعبوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے جن میں ایک اہم اقتصادی شعبہ بھی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت کے نتیجہ میں یمن کی 80 فی صد بنیادی تنصیبات تباہ ہوگئی ہیں۔ ”خلیج آنلائن“ نے یمن پر سعودی جنگ کے چار سال کے اختتام  پر کہا تھا کہ یمن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یمن کی تعمیر نو میں 100 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

علاوہ ازیں، اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے ”یونیسیف“‎‎‎‎‎‎‎ نے مئی میں جاری ہونے والی اپنی نئی رپورٹ میں کہا تھا کہ یمن کے 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو، یعنی ملک کی 80 فی صد آبادی کو اور جن میں ایک کروڑ بیس لاکھ بچے بھی شامل ہیں، انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے۔ اسی بنا پر یمن کا بحران انسان دوستانہ لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا بحران بن گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 97 لاکھ افراد کو طبی سہولیات کی ضرورت ہے جبکہ 5 سال سے کم عمر کے  3 لاکھ 60 ہزار بچے شدید ناقص تغذیہ کے مسئلہ سے دوچار ہیں۔

یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جنگ سے ہونے والے کم سے کم 100 ارب ڈالر کے نقصان کا یہ صرف ایک حصہ ہے۔ ایسے حالات میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے ایلچی عبداللہ المعلمی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اُن ممالک میں شامل ہے یمن کی مدد کرنے میں جن کا سب سے بڑا حصہ ہے اور یہ کہ سعودی عرب نے رواں سال میں 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کئے ہیں۔ عبداللہ المعلمی کے اس بیان میں چار اہم باتیں قابل ذکر ہیں؛

پہلی بات یہ کہ، اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے ایلچی نے لاشعوری طور پر یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت سے عالمی رائے عامہ کو آگاہ کر دیا ہے کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے انسان دوستانہ بحران کے لئے 40 کروڑ کی رقم بہت ہی کم ہے۔

دوسری بات یہ کہ، ایسا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ 40 کروڑ ڈالر کی سعودی مدد انسان دوستانہ مدد کے خواہاں افراد تک پہنچ رہی ہے۔ البتہ مذکورہ رقم ایسے افراد تک ہی پہنچتی ہے جو سعودی عرب سے وابستہ ہیں۔

تیسری بات یہ کہ بالفرض سعودی عرب نے رواں سال میں یمن کی 40 کروڑ ڈالر کی مدد کی  بھی ہو تو  اُس کا سب سے زیادہ استعمال عالمی رائے عامہ کو فریب دینے کے لئے ہوگا کیونکہ جو ملک روزانہ بمباری کرکے دنیا کے سب سے بڑے انسان دوستانہ بحران کا سبب بنا ہے وہ ایک ہی وقت میں ”جنگ پسند“ اور ”مُخیر“ نہیں ہوسکتا۔ ایک ساتھ  ”جنگ پسند“ اور ”مُخیر“ ہونے میں بڑا واضح تضاد ہے اور یہ دونوں صفات ایک حکومت میں جمع نہیں ہوسکتیں۔

آخری بات یہ کہ سعودی عرب نے ایسی حالت میں مغربی ایشیا کے غریب ترین عرب ملک یمن پر 100 ارب ڈالر کا بار ڈالا ہے کہ 52 مہینے کے بعد بھی اُس کی کامیابی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ یمن کے خلاف جنگ میں آل سعود حکومت کی شکست کے آثار روز بروز نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس