Sep ۰۸, ۲۰۱۹ ۱۸:۵۹ Asia/Tehran
  • طالبان کے ساتھ ٹرمپ کا خفیہ اجلاس منسوخ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی لائیں گے-

 ٹرمپ اس وقت اس کوشش میں ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی ناکام موجودگی کے اٹھارہ سال پورے ہونے اور بہت زیادہ نقصان اٹھانے کے بعد، طالبان گروہ کے ساتھ مصالحت کرکے اس ملک سے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کردیں- تاہم اس راہ میں انہیں بہت سی دشواریوں منجملہ طالبان کے جاری حملوں کا سامنا ہے-

اسی سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو طالبان کے ساتھ  خفیہ اجلاس کو منسوخ کردیا- یہ اجلاس طالبان کے سربراہوں کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ہونا طے پایا تھا- ٹرمپ نے ٹوئیٹر پیج پر لکھا کہ وہ اس خفیہ اجلاس اور اسی طرح  نام نہاد افغان امن عمل سے متعلق مذاکرات کو ، جمعرات کو کابل میں طالبان کی جانب سے کئے گئے دھماکے کے سبب منسوخ کر رہے ہیں- ٹرمپ کے اعلان کے مطابق وہ اتوار آٹھ ستمبر کو صدر افغانستان اشرف غنی اور طالبان کے ساتھ ، علیحدہ علیحدہ طور پر کیمپ ڈیوڈ میں مذاکرات کرنا چاہتے تھے- واضح رہے کہ جمعرات کو کابل میں ہونے والے دھماکے میں ایک امریکی دہشت گرد فوجی ہلاک اور چالیس دیگر زخمی ہوگئے تھے-

امریکہ افغانستان میں اپنی ناکام اسٹریٹیجی کے پیش نظر اور اس ملک میں فوج کی ناکامیوں سے مایوس ہوکر چند برسوں سے اس کوشش میں ہے کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور اس گروہ کو افغانستان کے اقتدار میں حصہ دار بنانے کے ذریعے، اس جنگ زدہ ملک میں نام نہاد امن قائم کرکے اپنے فوجیوں کی تعداد کم کردے- چنانچہ اس سلسلے میں اب تک امریکی نمائندوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نو دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انجام پا چکے ہیں تاہم اس کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے-

افغان امن عمل کے لئے امریکی نمائندے زلمی خلیل زاد نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے امریکہ، پائیدار امن معاہدے کے حصول کے لئے بہت سنجیدہ کوششیں انجام دے رہا ہے- یہ ایسی حالت میں ہےکہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ حتی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کامیاب ہونے کی صورت میں بھی وہ افغانستان میں اپنی فوج باقی رکھے- ٹرمپ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوجانے کے بعد بھی امریکہ، افغانستان کے ایک علاقے میں دائمی طور پر باقی رہے گا-

ٹرمپ نے رواں سال اگست کے اواخر میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد وہ افغانستان سے تقریبا تیس فیصد فوجیوں کی تعداد کم کردیں گے اور اس طرح یہ تعداد آٹھ ہزار چھ سو ہوجائے گی- واضح رہے کہ اس وقت چودہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں کہ جن میں سے زیادہ تر افغانستان کی سیکورٹی فورسیز کو ٹریننگ دے رہے ہیں- 

امریکہ اور گروہ طالبان کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور انجام پانے کے باوجود اس گروپ کے حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے - یہ حملے زیادہ تر خودکش  ہیں اور دارالحکومت کابل میں کئے گئے ہیں- درحقیقت یہ مذاکرات خود افغانستان میں جنگ کی توسیع کے ایک عامل میں تبدیل ہوگئے ہیں- کیوں کہ طالبان نے امریکیوں سے مراعات حاصل کرنے اور ان کو افغانستان سے نکل جانے پر مجبور کرنے کے لئے اپنے خودکش حملوں میں اضافہ کردیا ہے- 

افغانستان میں عالمی ریڈکراس کمیٹی کی مرکزی نمائندگی کے سربراہ جان پیڈرو اسشیرر Juan-Pedro Schaerer  کے بقول ، امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا افغانستان کے عام شہریوں کی زندگی کے بہتر ہونے اور تشدد کم ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے-افغانستان میں عالمی ریڈکراس کمیٹی نے بارہ اگست کو بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ دوحہ میں ہونے والے طالبان اور امریکہ کے امن مذاکرات ، نہ صرف جنگ میں کمی آنے اور عام شہریوں کی زندگی کے بہتر ہونے میں موثر نہیں رہے ہیں بلکہ اس ملک کے عام شہریوں خاص طور پر عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں میں اضافے کا باعث بنے ہیں- 

ساتھ ہی دوحہ میں امریکی حکومت اور طالبان گروہ کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں کابل حکام کی عدم موجودگی اور دونوں فریق کے درمیان ممکنہ سمجھوتہ طے پانے کی بابت، افغانستان کی مرکزی حکومت کی تشویش بڑھ گئی ہے-  نیٹو میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سن 2001 میں دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے افغانستان پرحملہ کردیا تھا لیکن مغربی فوجیوں کی موجودگی سے اس ملک میں بدامنی اور تشدد، منشیات کی پیداوار اور غربت میں اضافے کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا ہے -

 

ٹیگس

کمنٹس