• غزہ کا انوکھا حاکورا پارک

بہت کم فلسطینی اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ پرانے ٹائرز، لکڑی کے قدیمی بجلی کے کھمبے اور ان جیسی دوسری گھریلو متروکہ چیزیں بچوں کے کھیل کے میدان میں کام آسکتی ہیں، لیکن اب انہیں یقین آگیا ہے کیونکہ حاکورا پارک نے اس خواب کو حقیقیت میں بدل دیا ہے

غزہ، دیر البلاح:  بہت کم فلسطینی اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ پرانے ٹائرز، لکڑی کے قدیمی بجلی کے کھمبے اور ان جیسی دوسری گھریلو متروکہ چیزیں بچوں کے کھیل کے میدان میں کام آسکتی ہیں، لیکن اب انہیں یقین آگیا ہے کیونکہ حاکورا پارک نے اس خواب کو حقیقیت میں بدل دیا ہے۔ غزہ میں کھیل کا میدان لوگوں کو سکھاتا ہے کہ کس طرح گھر کی بیکار چیزوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ۲۱۵۰۰ اسکوائر فٹ پر مشتمل یہ غزہ پٹی کا پہلا پارک ہے جس میں متروکہ چیزوں کا استعمال کر کے بچوں کے کھیل کود کا سامان بنایا گیا ہے۔

 

نوا آرٹ اینڈ کلچرل ایسوی ایشن کی ٹیم پرانے ٹائروں کو رنگ کرتے ہوئے

 

یہ پارک نوا آرٹ اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن نے سن دوہزار سولہ میں غزہ شہر سے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دیر البلاح نامی شہر میں تعمیر کیا ہے۔ پارک کو اسی سال دسمبر کے مہینے میں عام عوام، والدین، بچوں، اور تعلیمی اداروں کے لئے کھولا گیا جبکہ اس کی کوئی داخلہ فیس بھی نہیں رکھی گئی۔

 

پرانی گاڑیوں کے خوبصورت استعمال  نے پارک میں جان ڈال دی ہے

 

یہاں نصب کی گئی کرسیاں پرانے ٹائروں سے، بچوں کے مختلف قسم کے جھولے ری سائیکل شدہ لکڑیوں اور چھوٹے بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور لائبریری پرانی متروکہ بسوں کے ڈھانچوں کو کمرے کی شکل میں ڈھال کر اور خوبصورت رنگوں اور دیدہ زیب ڈیزائینوں کے زریعے بنائی گئی ہیں۔ اسی طرح شہریوں کی جانب سے دی جانے والی پلاسٹک کی بوتلوں اور پرانے کپڑوں کے زریعے مختلف کھلونے اور گڑیاں بنائی گئی ہیں۔

 

بچے پارک میں سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے

 

پارک کے مینیجر سالم غنام کا کہنا ہے کہ ہم ری سائیکلنگ کی ثقافت کو رواج دینا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مقامی کچرے کو دوبارہ قابل استعمال بنا سکتے ہیں۔ ہم پارک میں آنے والے شہریوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کس طرح متروکہ چیزوں قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے البتہ وہ چیزیں جو معاشرے کے لئے فائدہ مند ہوں اور ماحولیات کے لئے نقصاندہ بھی نہ ہوں۔

 

پارک کی تزئین و آرائش کا کام نوا آرٹ اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے اراکین انجام دیتے ہیں

 

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کام کے لئے پرانے ٹائرز لئے انہیں رنگ کیا اور انہیں بچوں کی کرسیوں میں بدل دیا۔ ہم نے پرانے بجلی کے کھمبے لئے انہیں درست کیا اور اسے بچوں کا جھولا بنا دیا اسی طرح ہم نے پرانے ٹائلز لے کر انہیں پارک میں خوبصورت فرش بنانے کے لئے استعمال کیا ہے جو ہر دیکھنے والے کی آنکھوں کا بھا جاتا ہے۔

 

پرانے ٹائلز کی مدد سے دیواروں کی تزئین و آرائش کی جا رہی ہے

 

اس سلسلے میں ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ گھریلو خواتین کو یہ سکھایا جا سکے کہ کس طرح دوبارہ استعمال ہونے والی چیزوں کو غیر قابل استعمال چیزوں سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ لوگ یہاں اپنے ساتھ متروکہ چیزیں لاتے ہیں اور ہم انہیں اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔

 

یہاں موجود انسٹرکٹرز کی موجودگی میں والدین اپنے بچوں کی طرف سے مطمئن نظر آتے ہیں

 

سالم غنام نے مزید بتایا کہ ہماری ٹیم ری سائیکلنگ کے نئے آئیڈیاز حاصل کرنے کے لئے ویب سائٹس کا استعمال کرتی ہے اور مکتلف سائٹس سے نت نئے آئیڈیاز حاصل کرکے اپنے پاس موجود متروکہ سامان کی مدد سے نئی نئی چیزیں بناتی ہے۔

 

پرانے ٹائروں کی مدد سے خوبصورت اسٹولز بنائے گئے ہیں

 

حاکورا پارک غزہ کے دیگر پارکس کے مقابلے میں مختلف نظر آتا ہے کیونکہ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پارک میں کھیلنے کے لئے آںے والے بچوں کی مکمل نگرانی کی جاتی ہے۔ بچوں کے ساتھ آنے والے افراد بھی اس لحاظ سے کافی مطمئن نظر آتے ہیں جب وہ کوئی چیز بنانے میں مشغول ہوں گے یا ورکشاپ میں ہوں گے تو انکے بچے مختلف انسٹرکٹرز کی نگرانی میں کھیلنے میں مشغول ہوں گے۔ یہاں لائبریری ایک متروکہ بس کو رنگ و روغن کرکے اور خوبصورت نقش و نگار کر کے بنائی گئی ہے جو بہت جاذب نظر ہے اور بچے یہاں عطیہ کی گئی کتابوں کا مطالعہ کرکے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔

 

 

Jan ۰۹, ۲۰۱۸ ۱۰:۵۴ Asia/Tehran
کمنٹس