• امریکہ امن کی خواہش کا مذاق اڑاتا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکش گروپ کے سربراہ برائن ہک کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ امن کوششوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکش گروپ کے سربراہ برائن ہک  نے ہڈس انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے جامع ایٹمی معاہدے کو ایران اور سابق امریکی صدر کے درمیان ہونے والا ذاتی معاہدہ قرار دیا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو بیک وقت محدود کیا جائے اور امریکی سینیٹ بھی اس کی منظوری دے۔
 ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے برائن ہک کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ نے ایٹمی معاہدے کو دو حکومتوں کے درمیان پرائیویٹ معاہدہ قرار دیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کا یہ دعوی بالکل غلط ہے۔
 ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے  اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے جس پر امریکہ کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں دو الگ الگ کیس کی سماعت بھی کی جا رہی ہے۔
 ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹوئیٹ کے ساتھ ایک فلم بھی جاری کی ہے جس میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے عہدیداروں کو معروف امریکی امن کارکن مڈیا بنجامن کے ساتھ بد سلوکی سے پیش آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ صرف امن کی اپیل کا مذاق اڑاتا ہے اور کیا یہ بات شرمناک نہیں؟
قابل ذکر ہے کہ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکش گروپ کے سربراہ برائن ہک کے ایران مخالف خطاب کے بعد جنگ مخالف امریکی کارکن میڈیا بنجامن نے ڈائس پر پہنچ کر وائٹ ہاوس کے عہدیداروں کے بیانات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی خواہش یہ ہے کہ ایران ایک عام ملک میں تبدیل ہو جائے،تو آئیے عام ملک بنانے کی بات کرتے ہیں، سب سے پہلے سعودی عرب کو عام ملک بنانے کی بات کریں جو عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ابھی ان کی بات بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ  انسٹی ٹیوٹ کے سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں انتہائی بدتمیزی کے ساتھ گسیٹ کر ہال سے باہر نکال دیا۔
 اس واقعے کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں مڈیا بنجامن نے واضح کیا کہ امریکی حکام ایرانی عوام کے احتجاج کے حق کی تو بات کرتے ہیں لیکن خود تشدد کے ذریعے اعتراضات کو دبا دیتے ہیں۔
 مڈیابنجامن نے کہا کہ سیکورٹی حکام نے انہیں زبردستی ہال سے باہر نکال دیا جو اعتراض اور احتجاج کے انسانی حق کے حوالے سے ان کی دوغلی پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔
 جنگ مخالف امریکی کارکن نے کہا کہ اگرچہ انہیں جسمانی طور پر شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم وہ احتجاج سے پوری طرح مطمین ہیں کیونکہ وہ ہک کی غلط باتوں پر خاموش نہیں رہ سکتی تھیں۔

ٹیگس

Sep ۲۱, ۲۰۱۸ ۱۴:۵۴ Asia/Tehran
کمنٹس