Jan ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۳:۰۵ Asia/Tehran
  • شام میں زندگی لوٹ رہی ہے

اب رقہ میں ہر طرف سکون ہے اتنا کہ اب کسی بچے کے اچانک کھو جانے کا ڈر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہاں آج بھی دہشتگردوں کا بسیرا ہوتا تو بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنا تو درکنار کوئی اپنے جگر کے ٹکڑوں کے ساتھ یہاں زندگی گذارنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔

شام کے اکثر علاقوں میں زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے اور رقہ میں بھی اپنے وطن سے محبت کرنے والے شامی شہری اب اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔

شام کا شہر رقہ اب دوبارہ آباد ہونا شروع ہوگیا ہے

شام کے اہم اسٹرٹیجک شہر رقہ کی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سے آزادی کے بعد وہاں کے شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ رقہ جہاں لوگ تکفیری دہشتگروں کے خوف سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے اب وہاں صبح سویرے روٹی کے تندور پر خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد روٹی خریدنے موجود ہوتی ہے۔

خواتین روٹیاں خرید رہی ہیں

اب یہاں کسی قسم کا خوف نظر نہیں آتا نہ ہی وحشت کے سائے منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں تکفیریت کی تباہ کاریوں کے انمٹ نقوش ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کی شکل میں موجود ہیں جن پر چند دنوں پہلے تک ہی وحشی درندے منڈلاتے ہوئے نظر آتے تھے اور ان کی بداخلاقی، بدتہذیبی، جہالت اور بربریت زباں زد عام تھی۔ لیکن اب یہاں ہر طرف شام کے پرچم لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں اور فورسز کے جوان ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر رقہ کے ان علاقوں کو تکفیری دہشتگردوں کے پنجوں سے واپس چھینا ہے۔

گھر ٹوٹے پھوٹے ہیں لیکن اب کسی دہشتگرد کا ڈر نہیں

اب رقہ میں ہر طرف سکون ہے اتنا کہ اب کسی بچے کے اچانک کھو جانے کا ڈر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہاں آج بھی دہشتگردوں کا بسیرا ہوتا تو بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنا تو درکنار کوئی اپنے جگر کے ٹکڑوں کے ساتھ یہاں زندگی گذارنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔

اب بچے اکیلے ہی گھومتے پھرت نطر آتے ہیں

جلد ہی شام کے عوام کی استقامت اور خطے کے دیگر دوست ممالک کی حمایت رنگ لائے گی اور شام مکمل طور پر ان دہشگردوں کے قبضے سے آزاد ہوجائے گا ایک بار پھر یہاں تعمیر و ترقی کے روشن باب کا آغاز ہوگا اور اب کی دفعہ شام بہت تیز رفتاری سے ترقی کرے گا کیونکہ جس سرزمین کو جوانوں کے خون سے سینچا جاتا ہے وہاں اگر چار طرف تباہی کے آثار، ٹوٹی پھوٹی عمارتیں، تباہی، بربادی، بھوک اور افلاس اور فضاوں میں بارود کی بو ہی کیوں نہ رچ بس گئی ہو وہاں کے عوام اسی خرابے پر اپنے عزم و حوصلے کی بنیادوں کے اوپر ہمت اور سربلندی کی نئی عمارتیں پھر کھڑی کر لیتے ہیں۔

ٹوٹا پھوٹا ہی سہی مگر اپنا آشیانہ تو ہے

 

ٹیگس