• بحرینی حکومت کے ظالمانہ اقدامات

بحرین میں سیاسی قیدیوں کے خلاف حکومت کے ظالمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سیکورٹی اہلکاروں نے سیاسی قیدیوں کو شب قدر کے اعمال بجالانے کی بناپر کال کوٹھریوں میں منتقل کردیا ہے۔

ماہ رمضان کی انیسویں، اکیسویں اور تیئیسویں شب، شب قدر کہلاتی ہیں اورمسلمان ان راتوں میں جاگ کر خدا وندعالم کے حضور دعا و نیائش کرتے ہیں اور مخصوص اعمال بجالاتے ہیں۔ بحرین میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے ادارے سلام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بحرین کی سینٹرل جیل الجو میں سیاسی قیدیوں کو بری طرح زد وکو کیا جارہا ہے اور سیاسی قیدیوں کو سحری میں کھانے کو کچھ بھی نہیں دیا جارہا ہے۔
اس درمیان بحرین میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے انقلابی عالم دین شیخ زہیر عاشور کو بھی کال کوٹھری میں بند کردیا ہے۔
دوسری جانب ایک اور انقلابی رہنما حسن مشیمع کو جنھیں تین ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا اور جو اس وقت شدید علیل ہیں کسی بھی طرح کی طبی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی دواؤں اور ڈاکٹروں تک ان کی رسائی ہے۔ان کی جسمانی حالت کے بارے میں خبریں تشویشناک ہیں۔
اس درمیان بحرین کی انسانی حقوق کی انجمن نےانسانی حقوق کے معروف کارکن نبیل رجب کے خلاف مقدمے کی کارروائی کو آزادی بیان سے متعلق بین الاقوامی منشور کے منافی قراردیا ہے۔ آل خلیفہ حکومت کی عدالت نے اپنے تازہ ترین فیصلے میں سعودی عرب پر تنقید کرنے کے الزام میں انہیں سنائی گئی پانچ سال سزائے قید کی توثیق کردی ہے۔

Jun ۰۶, ۲۰۱۸ ۱۷:۴۰ Asia/Tehran
کمنٹس