Sep ۱۵, ۲۰۱۹ ۱۴:۵۶ Asia/Tehran
  • آرامکو حملے کے بعد سعودی حکام پر سکتہ طاری

سعودی عرب کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ آرامکو پر یمنی فوج کے ڈرون حملے کے بعد تیل کی پیداوار میں پچاس فی صد کمی واقع ہوگئی ہے۔

سعودی وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان نے سنیچر کی رات کہا کہ آرامکو کی بقیق اور خریص آئل ریفائنریوں پر یمن کے ڈرون حملے کے نتیجے میں دونوں آئل ریفائنریوں میں تیل کی پیداوار رک گئی ہے۔سعودی عرب کے وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے کی وجہ سے خام تیل کی پیداوار میں یومیہ پانچ آعشاریہ سات ملین بیرل یعنی تقریبا 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔

یمن کی مسلح افواج نے ہفتے کے روز کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے حملے میں بیک وقت دس ڈرون طیاروں کے ذریعے عبقیق اور خریص کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا تھا۔

دوسری طرف یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے پولیٹیکل بیورو کے سینیئر رکن محمد البخیتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کے خلاف سعودی جارحیت بند نہ ہوئی تو سعودی دارالحکومت ریاض پر بھی حملے کریں گے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بقیق اور خریص کی تیل تنصیبات پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کا حملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس نے آرامکو کو اقتصادی لحاظ سے زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

سی این این کے مطابق یمنی فوج کے تازہ ڈرون حملے کے نتیجے میں کم سے کم اکتیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔آرامکو پر حملے کے بعد سعودی اسٹاک میں مارکیٹ میں بھی گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا اور انڈیکس میں فوری طور پر دو فی صد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس حملے کے طویل المدت نتائج اور بھی زیادہ خطرناک ہوں گے کیونکہ سعودی وزیر توانائی کے بقول بقیق آئل ریفائنری سعودی تیل کی صنعت کا دل ہے اور یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اسی دل پر حملہ کیا ہے۔امریکی جریدے بلومبرگ کا کہنا ہے کہ بقیق پر حملے کے بعد سعودیوں پر سکتہ طاری ہوگیا ہے اور انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ یمنی ڈرون اس پر حملہ کرچکے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق صنعا سے بارہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر، مشرقی سعودی عرب میں واقع آرامکو کی تنصیبات پرگزشتہ روز کے حملے نے واضح کردیا ہے کہ پورے سعودی عرب میں واقع اقتصادی تنصیبات یمنیوں کے اپنے بنائے ہوئے ہتھیاروں کی رینج میں ہیں اور اس صورتحال نے سعودیوں کو جنگ یمن کی ایسی تنگ گھاٹی میں پھنسا دیا ہے جس سے نکلنا ریاض حکومت کے لیے انتہائی دشوار ہوگا۔

ٹیگس

کمنٹس