Oct ۱۹, ۲۰۱۹ ۱۶:۵۵ Asia/Tehran
  • کربلائے معلی میں سید الشہدا کا چہلم

سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کا چہلم کربلائے معلی میں انتہائی عقیدت و احترام اور حسینی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے جہاں دسیوں لاکھ زائرین لبیک یاحسین کی صداؤں کے ساتھ اپنے امام عالیمقام کے حضور اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں

کربلائے معلی کی فضا یاحسین یاحسین کی صداؤں سے گونج رہی ہے اور ہرطرف سے نوحہ و ماتم کی صدائیں بلند ہیں کربلائے معلی اس وقت عراق اور دنیا کے پچپن ملکوں کے دسیوں لاکھ زائرین سے مملوہے اور اس درمیان ہزاروں موکب زائرین کی پذیرائی اور خدمت میں مصروف ہیں ۔

خیال کیا جارہا ہے کہ اس سال بھی دو کروڑ سے زائد عاشقان اہل بیت اور حسینی متوالوں نے اربعین حسینی اور اربعین ملین مارچ میں حصہ لیا ہے اربعین دنیا کے تمام مذاہب کے مذہبی اجتماعات میں سب سے بڑا اجتماع ہے اور جو چیزیں اربعین میں نظر آتی ہیں وہ دنیا کے کسی بھی مذہبی یا سماجی اجتماع میں نظر نہیں آتیں ۔

اربعین میں امام حسین کےچاہنے والے سیکڑوں کلومیٹر پیدل طے کرکے کربلائے معلی پہنچتے ہیں اور اس کے علاوہ نجف سے کربلا کے درمیان طریق الکربلا نامی راستے میں جو پیدل مارچ ہوتا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اور پرامن انسانی اور اخلاقی مارچ ہوتا ہے جہاں انسانی اقدار پوری طرح متجلی ہوتی ہیں اس کے علاوہ اس مارچ میں رنگ و نسل اور سن و سال کی کوئی قید نہیں ہر سن و سال کے لوگ بچے بھی بوڑھے بھی اور حتی معذور عاشقان حسینی بھی لبیک یاحسین کہتے ہوئے کربلائے معلی کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں -

نجف سے کربلا تک اربعین ملین مارچ اسیران اہل حرم کے اس پیدل سفر کی یاد میں ہوتا ہے جب گیارہ محرم سن اکسٹھ ہجری کو دشمنان دین نے اہل حرم کو اسیر کیا اور انہیں کربلا سے کوفہ کی جانب کبھی پیدل تو کبھی بے کجاوہ اونٹوں پر لے گئےلیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آج اربعین صرف ایک علامتی مارچ نہیں ہے بلکہ ایک تہذیب و تمدن کی شکل اختیار گیا ہے اور اربعین حسینی آج وہی پیغام دے رہاہے جو پہلے اربعین کے موقع پر امام سجاد علیہ السلام اور جناب زینب علیا مقام نے دنیا کو دیا تھا کہ خدا کی راہ میں ظالم و سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والوں کا مقدر فتح و سربلندی ہوتا ہے اور آج کا اربعین بھی نہ صرف شیعیوں اور مسلمانوں کو بلکہ پوری دنیا کے حریت پسندوں کو امید حوصلہ ہمت و جرائت اور استقامت و پامردی کا درس دے رہا ہے کیونکہ آقا حسین کسی ایک مذہب سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ محسن انسانیت اور قیامت تک کے حریت پسندوں کے سردار ہیں ۔ یہی تو وجہ ہے کہ آج اربعین میں مختلف رنگ و نسل اور مذہب و قومیت کی شکل میں انسانیت نظر آتی ہے اور یہی اربعین کا فلسفہ بھی ہے ۔

 

ٹیگس

کمنٹس