Nov ۱۷, ۲۰۱۹ ۱۴:۴۱ Asia/Tehran
  •   شمالی عراق میں دہشت گردوں کے خلاف  الحشد الشعبی کی کاروائیاں

عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے ملک کے شمالی علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائیوں کے کامیاب نتائج کی خبر دی ہے جبکہ کرکوک میں دہشتگردی کی ایک کارروائی ناکام بنا دی گئی ہے۔

 عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے کمانڈر علاء الوحیلی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے شمالی صوبے موصل کے مشرق میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کامیاب رہی ہیں ۔ علاء الوحیلی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ملک کے شمالی صوبے موصل کے مشرق میں دہشتگردوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے کہا کہ داعش کے باقیات کی مکمل نابودی کے لئے اسی جیسی مزید کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 

درایں اثنا عراقی فوج کے جنگی طیاروں نے صوبہ نینوا میں داعش دہشتگردوں کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔عراق کی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے سنیچر کی رات شمالی عراق کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے داعش دہشتگردوں کی کوششوں کو ناکام بنا دینے کی خبر دی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الحشدالشعبی کی اسپیشل فورس کی پندرہویں بریگیڈ کے کمانڈر طاہر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ الحشدالشعبی کے جوانوں نے ایک مثالی آپریشن کرکے صوبہ کرکوک میں داعش کے عناصر کے اقدامات کو ناکام بنا دیا۔ طاہر عبداللہ کے اعلان کے مطابق داعش دہشتگرد گروہ کے عناصر کرکوک میں کچھ علاقوں پر حملہ کر نے کی کوشش میں تھے۔ عراق میں داعش دہشتگرد گروہ کی ناکامی کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں میں اس کے باقیات موجود ہیں اور گاہے بگاہے دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

داعش دہشتگرد گروہ دوہزار چودہ میں امریکہ اور اس کے مغربی و عربی اتحادیوں منجملہ سعودی عرب  کی مالی و فوجی حمایت سے وجود میں آیا تھا اور اس نے عراق کے  شمالی و مغربی علاقوں پر حملہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنے مقبوضہ علاقوں کے عوام کے ساتھ بے پناہ جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ عراق کے وسیع علاقوں پر داعش کے قبضے کے بعد عراق کی منتخب حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی اپیل کی تھی جس کے بعد اسلامی جمہوریہ نے عراق کی مشاورتی مدد دی اور عراقی  فورسس نے ایران کو مشاورتی مدد فراہم کی جس سے عراقی فورس نے سترہ نومبر دوہزار سترہ کو عراق کے صوبہ الانبار کے شہر راوہ کو بھی دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا جو عراق میں داعش کا آخری اڈہ تھا ۔ شہر راوہ پر عراقی فورسس کے کنٹرول کے بعد عراق سے عملی طور پر داعش کا خاتمہ ہوگیا۔ 

عراق کے بعض علاقوں اور شہروں پر داعش کے قبضے کے بعد اس ملک کے عظیم مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کے فتوے کی بنیاد پر دوہزار چودہ میں عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کی تشکیل عمل میں آئی جس کی  دوہزار سولہ میں عراقی پارلیمنٹ نے بھی تائید و حمایت کردی اور اس طرح رضاکار عوامی فورس الحشدالشعبی عراق کی مسلح افواج کے زیر کمان آگئی ۔ 

 

 

ٹیگس

کمنٹس