Sep ۰۱, ۲۰۱۷ ۰۷:۱۳ Asia/Tehran
  • پیپلز پارٹی کی جانب سے بینظیرقتل کیس کا فیصلہ مسترد

پیپلز پارٹی کی قیادت نے مشاورت کے بعد فیصلے پر مایوسی اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

آصف زرداری کی زیرصدارت اجلاس کے بعد جاری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی سمجھتی ہے کہ فیصلے میں انصاف نہیں کیا گیا۔

ثبوت کے باوجود القاعدہ اور طالبان دہشت گردوں کی رہائی حیران کن ہے، دہشت گردوں کی رہائی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔

اعلامیے کے مطابق پیلزپارٹی مقدمے میں فریق نہیں تھی، حکومت فوری طور پر اپیل دائر کرے، پیپلز پارٹی فریق بننے کے لیے قانونی چارہ جوئی کے بعد اپیل دائر کرے گی۔

فیصلے کے بعد آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 10 سال بعد بھی ہم انصاف کے منتظر ہیں ، جو میری والدہ کے قتل میں ملوث ہیں وہ آج تک آزاد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک پرویز مشرف سے ان کے جرائم کا حساب نہیں لیا جاتا انصاف نہیں ملے گا۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کل 9 سال بعد بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے اڈیالہ جیل میں بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق سی پی او سعود عزیز اور ایس پی خرم اشفاق کو سترہ سترہ سال قید کی سزا دے دی۔ دونوں پولیس افسران کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کیس میں ملوث پانچوں ملزمان کو بری کر دیا گیا جن میں رفاقت ، حسنین ، رشید احمد ، شیر زمان اور اعتزاز شاہ شامل ہیں تاہم عدالت نے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے سابق صدر کو اشتہاری قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف بیرون ملک ہیں اور ان کا مقدمہ ان کی غیر حاضری پر داخل دفتر کر دیا گیا جو ملک واپسی پر ری اوپن اور ٹرائل ہوگا۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم  محترمہ بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں جلسہ کے بعد واپس جاتے ہوئے قتل کیا گیا۔

ٹیگس

کمنٹس