Oct ۱۶, ۲۰۲۰ ۲۰:۰۰ Asia/Tehran

سحرعالمی نیٹ ورک کی جانب سے ہم اپنے تمام ناظرین ، سامعین اور قارئین کرام کی خدمت میں شہادت فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مناسبت پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں

غریب طوس امام رضا علیہ السلام کا مختصر تعارف

حضرت ابوالحسن علی ابن موسی الرضا (علیہ السلام) کی کنیت "ابوالحسن" ہے اور زیادہ مشہور لقب "رضا" ہے ۔ آپ کے دیگر القاب صابر، زکی، ولی، وفی، سراج الله، نورالہدی، قرة عین المؤمنین، مکیدة الملحدین، کفو، الملک، کافی الخلق ہیں۔

آپ کی شہر مدینہ میں ولادت ہوئی۔  مرحوم کلینی نے آپ کی ولادت ۱۴۸ ہجری قمری نقل کی ہے۔

آپ ۲۰ سال مقام امامت پر فائز رہے۔ آپ کے والد گرامی، ساتویں امام حضرت امام موسی کاظم (علیہ السلام) ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ  کا اسم گرامی تکتم تھا، جب حضرت امام رضا (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تو حضرت امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے "تکتم" کو طاہرہ کا نام دیا-

آپ کی ایک زوجہ تھیں جن کا اسم گرامی سبیکہ تھا جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ ماریہ کے خاندان میں سے تھیں۔

آپ کی اولاد کی تعداد اور ان کے ناموں کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ بعض نے پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے نام ذکر کیے ہیں، بعض نے تین بیٹے اور ایک بیٹی بتائی ہے۔

حضرت امام موسی کاظم (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد امام رضا (علیہ السلام)35  سال کی عمر میں مقام امامت پر فائز ہوئے۔

حضرت امام رضا (علیہ السلام) کی مدینہ سے مرو کی طرف ہجرت ۲۰۰ یا ۲۰۱ ہجری قمری میں واقع ہے۔

جب ہم اہلبیتؑ کہتے ہیں تو اسکا کیا مطلب ہے؟ امام رضاؑ کی عظیم تحریک کے چیدہ چیدہ پہلو کیا ہیں؟ 

دعبل کا واقعہ کس عظیم تحریک کی نشاندہی کرتا ہے؟

امام زادگان نے اتنا سفر کیوں کیا اور اتنی مصیبتیں کیوں اٹھائیں؟

ٹیگس

کمنٹس