• ذیابیطس سے 80 فیصد اموات کم آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں

ذیابیطس ( شوگر) کی پیچیدگیوں، علامات، علاج اور پرہیز سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج اس مرض کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔

14 نومبرکو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لئے دنیا کو متوجہ کرناہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض سے تقریبا 80فیصد اموات کم آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو 2030ء تک ذیابیطس دنیا کی ساتویں بڑی جان لیوا بیماری بن جائے گی۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے اسباب میں موٹاپا، تمباکو نوشی اور ورزش نہ کرنا اہم وجوہات ہیں، چند احتیاطی تدابیرپرعمل کرکے اس مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے جبکہ مرض لاحق ہونے کے باوجود بھی معمول کے مطابق زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 70لاکھ افراد ذیابطیس میں مبتلا ہیں جس کی وجہ واک نہ کرنا اور ٹائم پر خوراک نہ لینے سمیت فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنک کا بے تحاشہ استعمال ہے۔

طبی ماہرین  کاکہنا ہےکہ ذیابطیس سے بچنے کے لئے سافٹ ڈرنک اور بار بی کیو اشیاء کے استعمال کو ترک کرنا ہوگا اور روزانہ کھانے سے پہلے 20 منٹ یا ایک ہفتے میں 60 منٹ تیز واک کرنی چاہئے۔

واضج رہے کہ ذیابطیس تیزی سے نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی بڑھ رہی ہے، اس کا تدارک صرف علاج کی صورت سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس مرض سے متعلق پیچیدگیوں کی آگہی ہونا بھی ضروری ہے۔ اور شوگر کے علاج کے ماہرین نے روزمرہ کے معمولات میں ورزش کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ اس بیماری سے بچا جاسکے۔

شوگر کی بیماری 30 سے 50سال کی عمر کے افراد میں ہوتی تھی لیکن اب یہ بیماری بچوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کی وجہ بچوں کا زیادہ وقت گھروں میں کمپیوٹر اور موبائل فون کا استعمال ہے۔

 

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۰۴:۵۹ UTC
کمنٹس