Jan ۲۶, ۲۰۱۹ ۱۳:۴۴ Asia/Tehran
  • ایف بی آئی نے مجھے اغوا کیا تھا، مرضیہ ہاشمی

ایران کے پریس ٹی وی چینل کی اینکر مرضیہ ہاشمی نے کہا ہے کہ امریکی فیڈرل پولیس ایف بی آئی کے اہلکاروں نے دوران حراست میرے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کیا

 گیارہ روز تک امریکی جیل میں رہنے اور پھر رہا ہونے کے بعد رشیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے پریس ٹی وی کی اینکر مرضیہ ہاشمی نے کہا کہ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے ان کے حقوق کا احترام نہیں کیا اور حراست کے دوران انہیں بنیادی ترین انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ دوران حراست بارہا ان کی تصاویر اتاری گئیں اور ڈی این ٹیسٹ لیا گیا۔

 

درایں اثنا اپنی رہائی کے بعد واشنگٹن میں ہونے والے ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پریس ٹی وی کی اینکر مرضیہ ہاشمی نے غیر انسانی طرز سلوک کے باعث امریکی عدالتی نظام کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت جان لے کہ وہ عوام کو ڈرا دھمکا کر دبا نہیں سکتی۔ مرضیہ ہاشمی نے کہا کہ حکومت امریکہ میری حراست کو جو بھی نام دے  لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی اہلکاروں نے سینٹ لوئس ایئر پورٹ سے مجھے اغوا  کرکے واشنگٹن منتقل کیا تھا۔

واشنگٹن میں ہونے والے اس مظاہرے میں شریک لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی عدالتی نظام کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرے کے شرکا مرضیہ ہاشمی کی بے جرم گرفتاری پر جوابدھی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس سے پہلے جمعے کے روز لندن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں شریک لوگوں نے پریس ٹی وی کی اینکر کی گرفتاری کی مذمت کی تھی۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں مرضیہ ہاشمی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ انصاف کے حصول تک خاموش نہیں بیھٹیں گے اور صحافت کوئی جرم نہیں جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری نے امریکہ میں مسلمانوں اور سیاہ فاموں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک  کا پردہ چاک کردیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی فیڈرل پولیس ایف بی آئی نے پریس ٹی وی کی اینکر اور معروف صحافی مرضیہ ہاشمی کو تیرہ جنوری کو بغیر کسی الزام کے اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے لئے امریکا پہنچی تھی۔مرضیہ ہاشمی کو گرفتار کرنے کے فورا بعد ہی ہتھکڑی پہنا دی گئی تھی اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ مسلمان ہیں، زبردستی انکا حجاب اتار دیاگیا اور انہیں حلال کھانا فراہم کرنے سے بھی گریز کیا گیا۔دنیا بھر سے آزاد منش انسانوں کے مظاہروں کے بعد بالآخرہ گیارہ دن کی جبری قید کے بعد امریکی حکومت انہیں آزاد کرنے پر مجبور ہوگئی۔

ٹیگس

کمنٹس