امریکہ ؛ منی سوٹا میں مظاہروں کو کچلنے کے لئے فوجی تعیناتی کا اقدام
امریکا کے محکمہ جنگ پینٹاگون نے الاسکا میں تعینات تقریباً ڈیڑھ ہزار فعال فوجیوں کو منی سوٹا میں تعیناتی کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی گیارویں ایئربورن ڈویژن کے دو انفنٹری بٹالینز کو ’تیار رہنے‘ کے احکامات دیے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدام منی ایپولس اور سینٹ پال میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف جاری احتجاج کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
منی ایپولس میں وفاقی امیگریشن اور بارڈر کنٹرول ایجنٹس کی موجودگی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔یہ مظاہرے ایک مقامی خاتون رینی نیکول گُڈ کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے، چھاپوں کے دوران متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ادھرآئی سی ای نے تصدیق کی ہے کہ منی ایپولس سے گرفتار ہونے والا نکاراگوا کا شہری ٹیکساس میں حراست کے دوران ہلاک ہوا ہے۔
یاد رہے امریکہ کی طرف سے مظاہروں کو کچلنے کے لئے فوجی تعیناتی کا اقدام ایسے عالم میں کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران میں قتل عام میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف ایرانی حکومت کے اقدامات کو بہانہ بنا کر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے فوجی حملے کی دھمکیاں دی ہیں