Jul ۱۸, ۲۰۱۹ ۰۹:۰۴ Asia/Tehran
  • کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر پاک و ہند کا ملا جلا رد عمل

عالمی عدالت برائے انصاف کی جانب سے کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر پاک و ہند میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

دی ہیگ میں عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ عالمی عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کلبھوشن رہا نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کلبھوشن پاکستان کی حراست میں رہے گا، کیس پر نظر ثانی کی جائے۔ جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کلبھوشن یادو کے خلاف عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ہندوستان  کے وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز پاکستان کی جیل میں قید ہندوستانی شہری کلبھوشن یادو کی پھانسی کی سزا کو روکے جانے کے عالمی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سچ اور انصاف کی جیت قرار دیا۔ جبکہ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی عدالت کے فیصلے کی تعریف کرتے  ہوئے کہا کہ پاکستان کو کلبھوشن یادو کو فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کاگہرائی سے تجزیہ اور نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان فوراً اس ہدایت پر عمل درآمد کرے گا۔

ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے 15 رکنی بینچ نے کل کیس کا فیصلہ سنا دیا، بینچ میں پاکستان کا ایک ایڈ ہاک جج اور ہندوستان کا ایک مستقل جج بھی شامل  تھا۔

جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان ویانا کنونشن کے رکن ہیں اور دونوں ممالک پورے کیس میں ایک بات پر متفق رہے کہ کلبھوشن ہندوستانی شہری ہے، ہندوستان نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگی جب کہ  پاکستان نے ہندوستانی مطالبے پر 3 اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ جاسوسی اور دہشتگردی گردی  کے مقدمے میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی اس لیے ویانا کنونشن کا اطلاق کلبھوشن کیس پر نہیں ہوتا۔

عدالت نے ہندوستان کی اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر تینوں پاکستانی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دے دی، فیصلے کے مطابق ویانا کنونشن اس کیس پر لاگو ہوتا ہے اور ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا، آرٹیکل 36 میں جاسوسی کے الزام کی بنیاد پر قونصلر رسائی روکنے کی اجازت نہیں اس لیے کلبھوشن یادیو کو پاکستان قونصلر رسائی دے جب کہ اسے دی جانے والی سزا پر نظر ثانی بھی کرے۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی آخری سماعت 18 فروری سے 21 فروری تک جاری رہی تھی۔ 

یاد رہے کہ  پاکستان کا دعوی ہے کہ اس نےہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوکومارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتارکیا تھا اور ہندوستانی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پرفوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

10 مئی 2017 میں ہندوستان نے کلبھوشن یادیوکے حوالے سے عالمی عدالت سے رجوع کیا اورکلبھوشن  کی پھانسی کی سزا پر عمدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائرکردی تھی۔ 15 مئی کو عالمی عدالت میں ہندوستان درخواست کی سماعت ہوئی، دونوں ممالک کا موقف سننے کے بعد عدالت نے 18 مئی کو فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن یادیوکوپھانسی نہ دی جائے۔

ٹیگس