Sep ۱۹, ۲۰۲۰ ۱۴:۵۷ Asia/Tehran
  • امریکہ میں قبل از وقت انتخابی جنگ کا آغاز ہوا

امریکہ کی کئی ریاستوں میں صدارتی انتخابات کے لیے قبل از وقت ووٹنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق ریاست منے سوٹا، ورجینیا، جنوبی ڈکوٹا اور وائیومنگ میں صدارتی انتخابات کے لیے قبل از وقت پولنگ شروع ہو گئی ہے۔ ریاست ورجینیا کے لوگ انیس ستمبر سے دو نومبر تک ریاست بھر میں قائم کیے گے پولنگ اسٹیشنوں میں جاکر اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ ڈاک کے مطابق صدارتی انتحابات کے لیے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے تیئیس اکتوبر تک ووٹ ڈالے جا سکیں گے۔

ریاست منے سوٹا، جنوبی ڈکوٹا اور وائیومنگ جیسی ریاستوں میں ورچول ووٹنگ کے لیے اپنے نام درج کرانے والے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تین نومبر سے پہلے پہلے اپنے ووٹ بذریعہ ڈاک روانہ کریں، بصورت دیگر پولنگ اسٹیشن جا کر اپنا ووٹ ڈالنے کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ قبل از وقت ووٹنگ شروع کرنے کا فیصلہ کورونا کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ ووٹرز کے غیر ضروری اژدھام کو روکا جا سکے۔

کورونا سے بڑھتی اموات کے سبب امریکہ میں انتخابی عمل بری طرح متاثر ہے، ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں ہی کے نیشنل کنونشن آن لائن منعقد ہوئے اور نومبر میں صدارتی الیکشن میں ووٹنگ کی شرح کے بھی کورونا وبا کے سبب متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں دعوی کیا ہے کہ چین دو ہزار بیس کے صدراتی انتخابات کے لیے روس سے زیادہ سنگین خطرہ شمار ہوتا ہے۔

ٹرمپ کا دعوی ہے کہ اگر صدارتی انتخابات کے لیے پوسٹل بیلٹ اور الیکٹرانک پولنگ کا طریقہ کار استعمال کیا گیا تو روس اور چین دونوں آسانی کے ساتھ انتخابی عمل میں مداخلت کر سکیں گے۔  ٹرمپ کے اس طرح کے بے بنیاد بیان کو چین پہلے بھی سختی کے ساتھ مسترد کر چکا ہے۔

امریکہ میں رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق تین نومبر کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ڈیموکریٹ حریف جوبائیڈن کی برتری کا امکان پایا جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا بھی خیال ہے کہ کورونا کے بحران سے نمٹنے میں ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامی اور اس کے تباہ کن اثرات ایک جانب، ملک میں نسل پرستی کے حوالے سے ٹرمپ کے متنازعہ بیانات ہی آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی ناکامی کے اسباب فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس