Apr ۲۴, ۲۰۲۴ ۱۶:۲۸ Asia/Tehran
  • برطانیہ نے اپنے دفاعی بجٹ میں کتنا اور کیوں اضافہ کیا؟

برطانوی وزیراعظم نے بین الاقوامی خطرات بڑھنے اور دنیا کے سرد جنگ سے زیادہ خطرناک ہو جانے کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے دفاعی بجٹ میں پچھتر ارب پونڈ کا اضافہ کر رہے ہيں۔

سحر نیوز/ دنیا: برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے پولینڈ میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت دو ہزار تیس تک اپنی جی ڈی پی کا دو اعشاریہ پانچ فیصد ، دفاع پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رشی سونک نے کہا کہ ایسی دنیا میں جو اس وقت سرد جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہو چکی ہے ، ہم موجودہ صورت حال پر راضی نہيں رہ سکتے اور ایسی حالت میں جب ہمارے دشمن صف آرا ہو رہے ہیں ہمیں بھی اپنے ملک ، اپنے مفادات اور اپنے اقدار کے دفاع کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔

برطانوی وزیراعظم نے دعوی کیا کہ آج کی صورت حال یورپ کی سیکورٹی اور برطانیہ کے دفاع کے لئے ایک اہم موڑ ہے۔

انھوں نے برطانیہ کے دفاعی بجٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ برطانیہ کی سیکورٹی و فلاح کے لئے ایک طویل مدت سرمایہ کاری ہے جو ہمیں ملک کے اندر محفوظ اور ملک کے باہر مضبوط بنائے گی۔

برطانوی وزیرا‏عظم رشی سونک نے پولینڈ میں ایک یورو فائٹر ٹائیفن جنگی طیارے اور سولہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی خبر دی۔

برطانوی وزیراعظم نے اپنے پولینڈ کے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لندن بہت جلد ایک یورو فائٹر ٹائفین جنگی طیارے کے ساتھ سولہ ہزار برطانوی فوجیوں کو پولینڈ بھیجے گا۔ رشی سونک نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یہ جنگی طیارہ پولینڈ کے فضائی حدود میں گشت کرنے کے لئے بھیجا جائے گا کہا کہ وارسا اور لندن ہمیشہ ایک دوسرے کے اتحادی رہيں گے اور ہم تمام میدانوں میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

برطانوی وزیراعظم نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ وارسا اور لندن ایسی حالت میں ہتھیاروں کی پروڈکشن کے بارے میں تعاون کے امکان کا جائزہ لے رہے ہيں کہ پولینڈ یورپ کی سیکورٹی کی ضمانت فراہم کرنے میں اہم کردار کا حامل ہے۔

پولینڈ کے وزیراعظم نے بھی سونک کے ساتھ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پولینڈ اور برطانیہ ایک مشترکہ و ہماہنگ سیکورٹی پالیسی کے ذریعے پورے یورپ کو ایک متحدہ پالیسی کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہے ہيں۔

برطانیہ اور پولینڈ نے اس سے قبل میزائلی تجارت کے لئے ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جسے انھوں نے یوکرین جنگ کے بعد یورپ کی سیکورٹی کی تقویت کا نام دیا تھا ۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی کے امکان پر یورپ میں تشویش بڑھنے اور کی ایف کے لئے واشنگٹن کی اسلحہ جاتی و مالی مدد بند ہونے کے امکان کے پیش نظر برطانوی وزیرا‏عظم نے یوکرین کے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ لندن ، روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔

برطانوی وزیراعظم رشی سونک کے دفتر نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ برطانوی وزیراعظم نے یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کو ٹیلی فون کر کے تاکید کی کہ لندن یوکرین کو اپنے محاذ جنگ مضبوط بنانے کے لئے مزید پانچ سو ملین پونڈ کی مدد دے گا۔

برطانوی ذرائع کے مطابق یوکرین کے لئے یہ سب سے بڑا برطانوی امدادی پیکج ہے اور یہ ساٹھ جنگی بوٹوں، چار سو گاڑیوں، سولہ سو سے زیادہ میزائلوں اور دسیوں لاکھ گولوں پر مشمتل ہے۔

برطانوی وزيراعظم نے ماسکو کے خلاف لندن کا دشمنانہ موقف جاری رکھتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر ولادیمر پوتین اس جنگ میں کامیاب ہوگئے تو صرف پولینڈ کی سرحدوں تک نہيں رکیں گے۔

انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یوکرین کی سلامتی پورے یورپ کے لئے اہم ہے کہا کہ برطانیہ ، عالمی برادری کو یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کی ترغیب دلانے کا کام جاری رکھے گا۔

یہ ایسی حالت ميں ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی کے امکان نے یورپی حکام اور نیٹو کے اراکین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

ٹرمپ نے ریاست جنوبی کیرولینا میں ایک انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ وائٹ ہاؤس میں واپس آئے تو نیٹو اور یوکرین کے لئے واشنگٹن کی مالی مدد جاری رہنے کی ضمانت نہيں دیں گے۔

ٹیگس