سعودی عرب کا بشار اسد حکومت کے خاتمے کا خواب
Sep ۳۰, ۲۰۱۵ ۱۷:۰۰ Asia/Tehran
-
سعودی عرب کا بشار اسد حکومت کے خاتمے کا خواب
ایسے عالم میں کہ جب بشار اسد کا برسر اقتدار رہنا، بحران شام کے حل کے لئے شجر ممنوعہ نہیں رہ گیا ہے، سعودی عرب کے وزیر خارجہ اس پر سیخ پا ہیں اور ان کے خیال میں شام میں بشار اسد کا کوئی مستقبل نہیں ہے-
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بشار اسد کا اپنے ملک کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں رہے گا-عادل الجبیر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بحران شام کے حل اور بشار اسد کے دور کے خاتمے کے لئے دو آپشن ہیں کہا کہ پہلا آپشن ، اقتدار کی منتقلی کے لئے سیاسی عمل ہے اور دوسرا آپشن ، فوجی طریقہ کار ہے جو بشار اسد کی برطرفی کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا-
سعودی عرب ، بشاراسد کو کنارے لگانے کے لئے ایسی حالت میں فوجی آپشن کی بات کر رہا ہے کہ اس وقت تمام نگاہیں اور کوششیں، بحران شام کے حل کے لئے سیاسی طریقہ کار پر مرکوز ہیں- یہاں تک کہ بشار اسد کے بدترین دشمن امریکہ اور برطانیہ بھی بحران شام کے حل کے لئے بشار اسد کے ساتھ تعاون کی بات کر رہے ہیں- اس کے علاوہ ، روس نے شام کے اسٹریٹیجک اتحادی کی حیثیت سے اقتدار میں بشار اسد کی موجودگی کو اس ملک میں دہشت گردوں کے ساتھ جنگ کے لئے ضروری قرار دیا ہے-
درایں اثنا روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے گذشتہ پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترویں اجلاس میں کہا کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں بشار اسد کی فوج کے ساتھ تعاون نہ کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی- ولادیمیر پوتین نے شامی فوج کو وہ واحد فوج قرار دیا ہے جو دہشت گردوں کے خلاف پوری بہادری سے لڑ رہی ہے-
بحران شام کے بارے میں روس کا ٹھوس موقف اس بات کا باعث بنا ہے کہ بشاراسد کے مخالفین کے موقف میں تبدیلی آئی ہے اور سب کے سب داعش دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لئے پہلے قدم کے طور پر بشار اسد کے ساتھ تعاون کرنے اور پھر بحران شام کے حل کے لئے سیاسی طریقہ کار کے بارے میں اظہار خیال کرنے لگے ہیں-
بحران شام کے سلسلے میں ایران اور روس کے موقف میں ہماہنگی پائی جاتی ہے اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے بقول، بحران شام کے حل کے لئے پہلا قدم، دہشت گردی کے خلاف جد و جہد، اس کے مکمل خاتمے اور پھر تمام فریقوں کی شرکت سے قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دینا ہے-
روس ، اسلامی جمہوریہ ایران، اور بعض دیگر ممالک کا موقف سیاسی طریقہ کار، عوامی انتخابات اور اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں عوامی فیصلے کی جانب رجوع کرنا ہے- عوامی ووٹوں پر تکیہ، بحران شام کے حل کے لئے کسی بھی سیاسی طریقہ کار میں سر فہرست ہے اور شامی عوام کے سوا کوئی بھی بشار اسد اور اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا- شامی عوام ہی بشار اسد کے اقتدار میں باقی رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور اس کا امریکی صدر باراک اوباما ، فرانس کے صدر فرانسو اولاند اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے کوئی تعلق نہیں ہے-
اسد مخالف محاذ کی جانب سے داعشی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے واحد راستے کی حیثیت سے بشار اسد کو کنارے لگانے پر اصرار ایک لاحاصل طریقہ کار ہے اور اس سے بحران شام کے حل اور اس علاقے نیز اس ملک میں قیام امن میں کوئی مدد نہیں ملے گی-
بشار اسد کی فوج نے دہشت گردوں کے مقابلے میں اپنی استقامت سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ تنہا ایسی فوج ہے جو داعش دہشت گردوں کے خلاف جو امریکہ اور سعودی عرب سمیت دنیا کے اسی سے زیادہ ملکوں کے خلاف حقیقی جنگ کر رہی ہے-
گذشتہ ایک برس میں داعش کے خلاف امریکی اتحاد کی ناکامی سب پر واضح ہو چکی ہے چونکہ اس دوران ، یہ اتحاد داعش کو کمزور اور ختم نہیں کر سکا بلکہ اس کے ایجنڈے میں داعش کو کنٹرول کرنا رہا ہے- بحران شام کے حل کے پہلے قدم کی حیثیت سے وہ اتحاد ہی دہشت گردی کو ختم کر سکتا جس کا ہراول دستہ بشار اسد کی فوج ہو ورنہ بشار اسد کے بغیر کوئی بھی اتحاد داعشی دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکتا-