قندوز اسپتال پر امریکی حملہ ، جنگی جرائم کا مصداق
Oct ۰۵, ۲۰۱۵ ۱۷:۴۸ Asia/Tehran
-
قندوز اسپتال پر امریکی حملہ ، جنگی جرائم کا مصداق
قندوز میں اسپتال پر امریکی فضائیہ کے حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہو رہی ہے-
اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق امور کے سربراہ زید رعد حسین نے افغانستان کے شہر قندوز کے واحد فعال اسپتال پر امریکی حملے کو دلخراش، ناقابل جواز حتی مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ثابت ہو جائے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے تو یہ اقدام جنگی جرائم کا مصداق ہے- افغانستان کے شہر قندوز کے اسپتال پر امریکہ کے فضائی حملے میں چند ڈاکٹروں اور تین بچوں سمیت کم سے کم بائیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں- اس اسپتال میں بین الاقوامی طبی خیراتی تنظیم میڈیسنس سانس فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کے ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے- امریکی وزارت دفاع نے اس حملے کے تھوڑی دیر بعد اعلان کیا کہ اس کا مقصد طالبان کا مقابلہ کرنا تھا- پینٹاگون کا دعوی ہے کہ طالبان جنگجو فائرنگ کر رہے تھے جبکہ اسپتال میں موجود ڈاکٹروں نے صحافیوں کو بتایا کہ اسپتال میں عام شہریوں کے موجود ہونے کے اعلان کے باوجود اس پر آدھے گھنٹے تک بمباری جاری رہی- اس بنا پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے اس حملے کے بارے میں فوری اور آزاد تحقیقات کرائے جانے اور اس کے نتائج منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے
ایم ایس ایف نے شمالی افغانستان کے شہر قندوز میں واقع اپنے زیر انتظام اس اسپتال پر امریکی حملے کی تحقیقات کرائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے- ایم ایس ایف کے اعلان کے مطابق اس اسپتال پر امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بائیس تک پہنچ گئی ہے - بیان میں آیا ہے کہ اس حملے کی بھینٹ چڑھنے والے بارہ افراد ایم ایس ایف کے کارکن تھے اور تین بچوں سمیت دس افراد اسپتال میں موجود مریض تھے- طالبان نے گذشتہ ہفتے شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا لیکن افغان فوج نے اسے آزاد کرا لیا- مقامی عینی شاہدین، امریکہ کی جانب سے افغان فوج کی مدد کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ حملہ کافی دیر بعد کیا گیا اور جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا اس کا طالبان کی موجودگی سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا-
درایں اثنا، افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کے قتل عام سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی نظر میں انسانوں کی جان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ بڑی آسانی سے قتل عام کرتے ہیں اور تحقیقات کرانے اور معاقی مانگنے تک کے لئے تیار نہیں ہوتے- اسی بنا پر افغان حکام نے قندوز اسپتال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو دعوی کرتے ہیں کہ وہ عوام کی جان کے محافظ ہیں لیکن خود بڑی آسانی سے جرائم انجام دیتے ہیں-
ادھر ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے افغانستان کے شہر قندوز کے اسپتال پر امریکہ کے فضائی حملے کی مذمت کی- ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے قندوز اسپتال پر امریکی لڑاکا طیاروں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جس میں بچوں اور عورتوں سمیت دسیوں بے گناہ ہلاک اور زخمی ہوئے، غیرذمہ دارانہ اور ناقابل جواز قرار دیا- انھوں نے افغانستان کی حکومت اور عوام بالخصوص مرنے والوں کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ افغانستان کے مظلوم عوام کے اجتماعی حقوق کو نظرانداز کرنا اور اس ملک کے طبی مرکز پر حملہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مداخلت پسندانہ رویے کا نتیجہ ہے-