شام میں روس کے فوجی اقدامات کے بارے میں نیٹو کا انتباہ
Oct ۰۶, ۲۰۱۵ ۱۲:۱۱ Asia/Tehran
-
شام میں روس کے فوجی اقدامات کے بارے میں نیٹو کا انتباہ
نیٹو تنظیم کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے شام میں روس کے فوجی اقدامات کو علاقے میں قیام امن کے منافی قرار دیا ہے۔
ینس اسٹولٹنبرگ نے پیر کے روز ایک بیان میں اسی طرح روس کے جنگی طیاروں کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں روس کے اقدامات علاقے میں قیام امن میں معاونت شمار نہیں کیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اسٹولٹنبرگ نے نیٹو کے اٹھائیس اراکین کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیٹو نے شام میں دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روس کے حالیہ ہوائی حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں نیٹو نے شام کو روس کے فوجی ساز و سامان کی سپلائی اور حماہ، حمص اور ادلب میں ماسکو کے ہوائی حملوں پر کہ جن میں بقول ان کے عام شہری بھی ہلاک ہو ئے ہیں اور داعش کو بھی نشانہ نہیں بنایا گیا ہے، شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روس نے تیس ستمبر دو ہزار پندرہ کو اعلان کیا کہ اس نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور شام کی قانونی حکومت کی درخواست پر اس ملک کے اندر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہوائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں پر کہ جو بظاہر موثر بھی واقع ہوئے ہیں، ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مغربی ممالک نے اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس پر الزام لگایا کہ اس نے داعش دہشت گرد گروہ کے بجائے دوسرے مخالف گروہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جیسا کہ مغرب کے حمایت یافتہ شام کے مخالفین کے اتحاد نے دعوی کیا ہے کہ روس نے ان حملوں میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے کہ جن میں داعش موجود نہیں تھے۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات پر زور دیا کہ روسیوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ روس کو شام میں داعش کے خلاف کارروائی کے علاوہ کوئی اور فوجی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے جواب میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شامی مخالفین کے ٹھکانوں پر روس کے ہوائی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس نے امریکہ کی سربراہی والے داعش مخالف اتحاد کی مانند شام میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
روسی حکام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جارحیت کی تعریف کے بارے میں انیس سو چوہتر میں پاس ہونے والی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے ہوائی حملے اس ملک کی قانونی حکومت کی درخواست پر انجام پا رہے ہیں لہذا شام میں داعش کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں روس کی جانب سے شام کی حمایت اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔
ایسا نظر آتا ہے کہ شام میں روس کی مغرب اور اس کے عرب اتحادیوں اور ترکی کے ساتھ محاذ آرائی حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ درحقیقت مغرب والے یہ دیکھ رہے ہیں کہ روس شام کی حکومت کو بچانے کے لیے اپنے ہوائی حملوں میں شامی حکومت کے تمام مخالف مسلح گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جبکہ امریکیوں نے بھی اس خیال کے تحت کہ روس شام میں صرف داعش کو نشانہ بنائے گا، شام میں روس کی فوجی موجودگی کی ضمنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت روس کے جنگی طیاروں کے شدید حملوں سے شام میں دہشت گرد گروہوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور اسی بنا پر مغرب والے نیٹو کے پلیٹ فارم سے روس کا مقابلہ کرنے اور شام میں اس کا دائرہ عمل محدود کرنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں ہیں۔
روس کے جنگی طیاروں کے ترکی کی فضائی حدود میں غلطی سے داخل ہونے کے مسئلے پر ترکی اور نیٹو کا شدید اور غیر روایتی ردعمل، شام کے فضائی میدان میں روس کے ساتھ مقابلے کے لیے نیٹو کی آمادگی کی ایک علامت اور نشانی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ روس کے ہوائی حملوں کا جاری رہنا، شام میں مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے انتہائی کمزور ہونے اور طاقت کا توازن شام کی قانونی حکومت کے حق میں تبدیل ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی بنا پر امریکی صدر باراک اوباما نے شام کے مخالفین کو دوبارہ مسلح کرنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ اس طرح طاقت کا توازن ایک بار پھر شام میں بشاراسد کے مخالفین کے حق میں تبدیل کیا جا سکے۔