افغانستان: سابق مجاہدین کا اظہار تشویش
-
افغانستان: سابق مجاہدین کا اظہار تشویش
افغانستان میں سابق مجاہدین نے ملک کے حالات اور بڑھتی ہوئی بدامنی پر اظہار تشویش کیا ہے
افغانستان میں سیاسی اور سکیورٹی حالات کے پیش نظر بعض سابق جہادی کمانڈروں اور عمائدین نے کابل میں حفاظت و استحکام کونسل کا اعلان کیا ہے۔
حزب دعوت اسلامی کے سربراہ اور سابق جہادی لیڈر عبدالرسول سیاف نے کابل میں منعقدہ ایک اجلاس میں حفاظت و و استحکام کونسل کا اعلان کیا۔
انہوں نے مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنے میں مجاہدین کے تجربوں سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ افغان عوام کے برسوں کے جہاد کے ثمرات برباد ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کونسل کی تشکیل کا مقصد مجاہدین کی حمایت، معاشرے کے مسائل کا حل پیش کرنا، اور حکومت افغانستان کی بنیادیں مضبوط کرنا ہے۔ عبدالرسول سیاف نے کابل حکومت اور طالبان کے امن مذاکرات کی حمایت کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے فیصلے کرنے کے عمل کی شفاف سازی اور قانون پر عمل درآمد بھی اس کونسل کے اھداف میں شامل ہے۔
سیاسی مبصرین کی نظر میں افغانستان میں سابق مجاہدین کمانڈروں کے ایک گروہ کی جانب سے حفاظت و استحکام کونسل کی تشکیل سابق مجاہدین کو سیاسی اور سکیورٹی میدان سے ہٹائے جانے پر مجاہدین کا اظہار تشویش ہے۔
افغان مجاہدین نے خواہ سرخ فوج کی جارحیت کے زمانے میں ہو یا طالبان کی حکومت کے زمانے میں ہو اپنے ملک کی آزادی اور ارضی سالمیت کا تحفظ کرنے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں لیکن دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی حکومتوں نے ملک کے مختلف سیاسی اور سکیورٹی میدانوں میں سابق مجاہدین کی خدمات حاصل کرنے میں خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
یہی امر سابق مجاہدین کی تشویش کا سبب بنا ہےکہ اور انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سیاسی اور سکیورٹی میدانوں سے نکالا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کابل حکومت کی حمایت کی۔ البتہ افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آنے اور داعش کے ظہور کے بعد جس سے افغانستان کی حکومت کو شدید خطرے لاحق ہوگئے ہیں ایک بار پھر مجاہدین نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت اور آزادی کے تحفظ کے لئے مجاہدین کو بھی کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے لیکن افغانستان کے اعلی حکام نے جن میں بیشتر ٹکنوکریٹ ہیں وہ سیاسی عمل اور دہشتگردوں سے مقابلے کے سلسلے میں سابق مجاہدین کے کردار ادا کرنے کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا کردار ادا کرنا ملک کے قوانین کے دائرہ کار میں ہی مثمر ثمر واقع ہوسکتا ہے۔
اسی وجہ سے افغانستان کے سابق مجاہدین نے ملک کے قانون کا احترام کرتے ہوئے سابق مجاہدین کو منظم کرنا شروع کیا اور اب افغانستان میں تحفظ و استحکام کونسل کا اعلان کردیا گیا ہے۔
مجاہدین کا کہنا ہےکہ افغان عوام کی برسوں کی مجاہدانہ کوششیں نابود ہورہی ہیں اور اس کے تحفظ کے لئے مجاہدین کو متحدہو کر قانون کے دائرہ میں میدان عمل میں اترنا ہوگا۔
افغانستان کے سابق وزیر بجلی پانی محمد اسماعیل خان نے نے سابق جہادی کمانڈروں کی نشست میں کہا کہ افغانستان میں ستر لاکھ افراد جنگ و بد امنی کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوچکے ہیں اور اب تک ان میں سے بہت سے لوگ اپنے وطن واپس نہیں لوٹے ہیں۔
محمد اسماعیل خان نے کہا کہ جارحین کے مقابل افغان عوام کی استقامت کے باوجود آج بھی ان کے ملک کو جنگ و تباہی سے چھٹکارہ نہیں مل سکا ہے اور ملک میں روز بروز بدامنی بڑھتی جارہی ہے۔
اسماعیل خان نے کہا کہ اس وقت دشمن نے افغانستان کے پرامن علاقوں میں متعدد اڈے بنالئے ہیں اور یہی امر افغان عوام کی برہمی اور تشویش کا باعث ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان کے سابق سینئر جہادی رہنماوں نے دوبارہ یہ کوشش شروع کردی ہے کہ دہشتگردی کے بارے میں افغان حکومت کی حمایت کریں گے اور اس راستے سے قومی اتحاد کی حکومت کو تقویت پہنچائیں گے، ان حالات میں حفاطت و استحکام کونسل کی جانب سے حکومت کابل اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت کا اعلان قابل غور ہے اور اس سے قیام امن کے عمل میں تیزی آسکتی ہے اور اسے تقویت بھی مل سکتی ہے۔