Dec ۲۰, ۲۰۱۵ ۱۵:۱۸ Asia/Tehran
  • امریکی اقدام کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ کا بیان
    امریکی اقدام کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ کا بیان

آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے ممکنہ پہلوؤں کے الزامات یعنی پی ایم ڈی کیس ختم کئے جانے کے بعد اب ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے تاہم ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے مراحل طے کئے جانے کے موقع پر ایک بیان میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کچھ ایسے متضاد پیغامات مل رہے ہیں جن میں سے بیشتر بہت زیادہ منفی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے المانیٹر ویب سائٹ سے گفتگو میں، جس کا متن اتوار کے روز شائع ہوا، ایران کے سفر پر پابندی عائد کئے جانے کو ایٹمی معاہدے کے خلاف قرار دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ یہ قانون یقینی طور پر نادرست ہے اس لئے کہ کسی بھی ایرانی یا ایران کا سفر کرنے والے شخص کا، پیرس یا سین برنار ڈینو میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ اس قسم کے قانون پر عملدرآمد سے سب سے بڑھکر اس قانون کی منظوری اور اس کی حمایت نیز اس قانون پر عملدرآمد کرنے والوں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

امریکہ، دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے اس قسم کے ناقابل جواز اقدامات عمل میں لاتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس کی حکمت عملی، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مہم پر استوار ہے جبکہ عالمی برادری عملی طور پر اس طرح کے دعوے کے نتائج کا مشاہدہ کرنا چاہتی ہے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ علاقے کے حالات سے اس قسم کے نتائج کی کہیں کوئی نشاندہی نہیں ہوتی۔

امریکہ مسلسل انتہا پسندی اور دہشت گردی کے وجود کا ذمہ دار، دیگر ملکوں کو قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکی کانگریس کے حالیہ بل کا مطلب بھی، یہی ہے کہ امریکہ یا کسی اور ملک میں دہشت گردی، اسلامی ملکوں سے برآمد ہو رہی ہے حالانکہ شواہد سے اس بات کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے کہ انتہا پسندانہ اقدامات کے فروغ میں مغرب کا ناقابل انکار کردار رہا ہے۔

امریکہ کے بعض حکام منجملہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے، جو امریکہ کے صدارتی انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے حصہ بھی لے رہی ہیں، اعتراف کیا ہے کہ القاعدہ تنظیم، امریکہ نے تشکیل دی ہے اور اس کی حمایت کی ہے، اس وقت داعش گروہ کو بھی اسی طرح کی حمایت حاصل ہے اور امریکی آلۂ کار کی حیثیت سے علاقے میں اس کو استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

امریکہ، داعش اور دہشت گردی کے خلاف مہم کے عمل میں اس بات تک کی کوشش نہیں کر رہا ہے کہ شام میں دہشت گرد گروہوں کی فہرست تیار کرنے میں ایک جیسا نظریہ قائم کرے بلکہ وہ، انتہا پسند اور اعتدال پسند گروہوں کی تقسیم کے ساتھ بعض دہشت گرد گروہوں کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔

امریکی حکام نے، القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں کے قیام میں اپنے اندرونی کردار پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گردی کے فروغ میں دیگر ملکوں کے کردار کے بارے میں اپنے

دعووں کو خوب اچھالا ہے اس سلسلے میں اپنے نئے اقدام کے تحت امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایسے اڑتیس ملکوں کے شہریوں نے، جو اس وقت بغیر ویزے کے امریکہ کا سفر کر رہے ہیں، گذشتہ پانچ برسوں کے دوران اگر ایران، شام، عراق اور سوڈان کا سفر کیا ہوگا، تو بغیر ویزے کے امریکہ کا سفر کرنے کی ان کی سہولت ختم کردی جائے گی۔

امریکہ کا یہ فیصلہ ممکنہ طور پر اس ملک کا ایک اندرونی فیصلہ سمجھا جائے تاہم اس قسم کے فیصلوں کا مقصد ایران کو تنہا کرنے کی کوشش ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اس اقدام سے ایرانیوں کو یہ غلط پیغام مل رہا ہے کہ ایران سے کسی بھی طرح کی دشمنی برتنے کی، امریکہ کی عادت بن چکی ہے۔

ٹیگس