افغانستان و پاکستان کے تعلقات میں فروغ کی کوشش
اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر اور صدر اشرف غنی کے خصوصی نمائندے نے پاکستان کے وزیر خزانہ سے ملاقات میں دو طرفہ تعاون کے حل اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کے سلسلے میں موجودہ مسائل کے حل اور دو طرفہ تعاون میں بہتری لانے پر اتفاق کیا ہے-
اسلام آباد میں افغانستان کے پریس اتاشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں افغانستان کے صدر کے خصوصی نمائندے اور سفیر عمرزاخیلوال نے اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے تجارتی امور میں موجودہ مسائل دور کرنے پر اتفاق کیا-
دونوں ملكون کے درمیان زیربحث آنے والے موضوعات میں ایک ، ٹرانزٹ کے شعبے سے متعلقہ مسائل کا حل تھا-
افغانستان کے سفیر نے پاکستانی وزیرخزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے ایک قبیلے کے بزرگ اور صوبہ ہرات اور کنر صوبوں کے سابق گورنر فضل اللہ وحیدی کے اغوا کے مسئلے پر خاص توجہ دیں -
اس بات کے پیش نظر کہ پاکستان کا ایک اہم اقتصادی پارٹنر افغانستان ہے اور تجارتی مال کی ٹرانزٹ اور ان کی فوری منتقلی کے سلسلے میں موجود اقتصادی و تجارتی مسائل کے حل پر اتفاق وہ اہم موضوع ہے جو کابل اور اسلام آباد کے تعلقات پر چھائے کالے بادل دور کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے-
گذشتہ مہینوں میں طالبان کے ہولناک حملوں میں شدت آنے اور قندوز پر کچھ دنوں کے لئے ان کے قبضے سے پورے افغانستان میں پاکستان کے خلاف تنقیدوں کی لہر پیدا ہوگئی اور بعض تاجروں نے پاکستان سے سامان تجارت لانا بند کردیا-
اس بات کے پیش نظر کہ پاکستانی مصنوعات کی ایک اہم منڈی افغانستان ہے ، افغان تاجروں کی جانب سے پاکستانی مصنوعات کے بائیکاٹ نے اس ملک کو کاری اقتصادی چوٹ پہنچائی-
درایں اثنا پاکستانی حکومت کوشش کرتی ہے کہ اس طرح عمل کرے کہ افغانستان کا اقتصاد، بدستور پاکستان سے وابستہ رہے- اس بات کے پیش نظر کہ افغانستان خشکی سے گھرا ہوا ہے اور سمندر تک اس کی رسائی نہیں ہے اس لئے پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ افغانستان میں سامان کی منتقلی کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرے-
سامان کی منتقلی اور دیگر مواصلاتی راستوں کو استعمال کرنے کے لئے افغانستان کا رویہ، پاکستان سے کابل کی مواصلاتی اور اقتصادی وابستگی کم کرنے کی کوشش شمار ہوتی ہے- اس کے باوجود افغانستان کی حکومت، ملک میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کے لئے پاکستان کو راغب اور مائل کرنے کے لئے بدستور اس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر بنائے رکھنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ دونوں ملکوں کے سیکورٹی اختلافات اور مسائل میں تجارتی مسئلے کا بھی اضافہ نہ ہو جائے-
اس وقت افغان حلقوں کی جانب سے اسلام آباد پر طالبان کی حمایت اور امن کے عمل میں سنجیدہ مشارکت نہ کرنے کا الزام ، کابل اور اسلام آباد کے درمیان سب سے اہم سیکورٹی اختلاف شمار ہوتا ہے جو دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے-
بہرحال افغانستان اور پاکستان دو پڑوسی اور تاریخی تعلقات کے حامل ملک ہیں اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے انھیں تمام میدانوں میں سنجیدہ تعاون اختیار کرنے کی ضرورت ہے-
اس بنا پر ایسا نظرآتا ہے کہ اقتصادی اور تجارتی میدان میں موجود مسائل کے حل پر اتفاق، کشیدگی دور کرنے اور سیکورٹی سمیت تمام اختلافات حل کرنے کے لئے مناسب قدم ہوسکتا ہے-