ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ قومی مفاد کے خلاف اور دباؤ میں لیا گیا فیصلہ ہے : راہل گاندھی
راہل گاندھی نے ہند امریکہ تجارتی معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم قومی مفاد کو نظر انداز کر کے دباؤ میں اٹھایا گیا ہے ۔
سحرنیوز/ہندوستان: راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ آخر امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے ہندوستانی کسانوں کی قربانی کیوں دی گئی؟ انہیں ہندوستان کی تیل درآمدات طے کرنے کی اجازت دے کر توانائی سلامتی سے سمجھوتہ کیوں کیا گیا؟ کسی باہمی وعدے کے بغیر ہر سال سو ارب ڈالر کی امریکی درآمدات بڑھانے پر رضامندی کیوں ظاہر کی گئی؟
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کو ایک ’ڈیٹا کالونی‘ میں تبدیل کر سکتا ہے جہاں کسی ملک کا کنٹرول کسی غیر ملکی طاقت کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی ایسا معاہدہ کیوں قبول کریں گے جس میں ہندوستان زیادہ دے اور بدلے میں کم حاصل کرے؟
راہل گاندھی نے اس صورت حال کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ’ہتھیار ڈالنے‘ کی اصل وجہ وزیرِاعظم پر ڈالا گیا دباؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ آخر ایسا غیر متوازن معاہدہ کیوں تسلیم کیا گیا۔