Mar ۱۹, ۲۰۱۶ ۱۷:۰۹ Asia/Tehran
  • افغانستان میں امریکہ اور نیٹو ناکام

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو بری طرح ناکام رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویتالی چورکین نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی اسٹراٹیجی مکمل طرح سے ناکام ہوگئی ہے۔ ویتالی چورکین نے کہا کہ نیٹو اور امریکہ، افغانستان میں ا پنے اھداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور افغانستان بدستور دفتری بدعنوانیوں اور دیگر بحرانوں کا شکار ہے۔ ویتالی چورکین کے بقول افغانستان میں طالبان کے حملے اور نہتے عوام اور فوجیوں کا قتل عام بدستور جاری ہے اور ان حملوں سے افغانستان میں بدامنی پھیل چکی ہے اور یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہے۔ انہوں نے افغانستان میں نیٹو کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روس افغانستان کے لئے اپنی طویل مدت حمایت جاری رکھے گا۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ روس، افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی اسٹراٹیجی کو تنقید کا نشانہ بنارہا ہے۔ماسکو نے ہمیشہ تاکید کی ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں بحران کو اپنے منشاء کے مطابق کنٹرول کرنے کی منصوبہ بند پالیسیوں پر کاربند ہیں۔

روس کی نگاہ میں امریکہ اور نیٹو علاقے میں منشیات کے استعمال کو بڑھاوا دے کر، مرکزی ایشیا اور قفقاز تک انتہا پسندی اور دہشتگردی پھیلا کر نیز افغانستان میں بدامنی کا بحران جاری رکھ کر علاقے میں بدامنی پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

اس کے یہ معنی ہیں کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں بدامنی میں شدت پیدا کرکے اس ملک میں اپنی فوجی موجودگی باقی رکھنے کا جواز پیش کررہے ہیں اور افغانستان کو اپنے فوجی اڈے کے طور پراستعمال کرنا چاہتے ہیں۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی موجودگی سے روس کو جو ایک شدید نقصان ہورہا ہے وہ روس میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ اور اس کے معاشرے کی سلامتی کو لاحق ہونے والے خطرے ہیں۔

روس کے فیڈرل ادارے برائے انسداد منشیات کے سربراہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ نیٹو نے افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں کمی لانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ ویکٹر ایوانوف نے افغانستان کا بجٹ کل ملا کر تیرہ ارب ڈالر ہے جبکہ اس ملک میں منشیات کی پیداوار کی مالیت ایک سو پچاس ارب ڈالر ہے۔ان کے بقول اگر ہم افغانستان میں موجود بیرونی افواج سے امید لگارکھیں تو ہمیں اس بات پر یقین کرنا چاہیے کہ انہوں نے منشیات سے مقابلے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے

۔ویکٹر ایوانوف نے کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں افغانستان میں منشیات کی زیر کاشت آنے والی زمینوں کا رقبہ ساٹھ فیصد بڑھ گیا ہے اوران میں زیادہ تر خشخاش کی کاشت ہوتی ہے۔

ادھر نیٹو میں روس کے سفیر الیگزینڈر گروشکو نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں نیٹو کے تعاون کے بغیر ہی منشیات کا مقابلہ کرے گا انہوں نے افغانستان میں منشیات کی کاشت اور پیداوار کے بارے میں اقوام متحدہ کی جانب سے متضاد اعداد و شمار پیش کئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منشیات سے مقابلے اور منشیات میں کمی کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہےکہ اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی منشیات کے نتیجے میں پیش آنے والے خطرات میں کوئی کمی آئی ہے۔

ادھر روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بھی افغانستان میں منشیات کی کاشت اور پیداوار میں اضافہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات بیرونی افواج منشیات سے مقابلے میں کسی طرح کا تعاون نہیں کرتیں۔

بہر صورت روس نے افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور بدامنی میں اضافے کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کابل کے ساتھ اپنے فوجی اور سکیورٹی تعاون میں اضافہ کرے گا۔

ٹیگس