پاکستان طالبان کا حامی: کابل حکومت
حکومت اسلام آباد نے پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے افغان طالبان کی حمایت کے الزامات کو مسترد کیا ہے
۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس زکریا نے اس طرح کے الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آہنی ارادے سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کررہا ہے اور کسی امتیازی رویے کے بغیردہشتگردوں کے خلاف آپریشن کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک مشترکہ دشمن ہے اور اس سے جنگ کے لئے تعاون کی ضرورت ہے نہ کہ مقابلے اور صف آرائی کی۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان کے حکام کے مطابق طالبان کے سینئر لیڈروں کو پاکستان میں پناہ دی گئی ہے اور وہ پاکستان ہی سے افغانستان میں حملوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے بھی افغانستان کے قومی سیکورٹی کے ادارے کے انچارج مسعود اندرابی نے پارلیمنٹ میں واشگاف الفاظ میں یہ الزام لگایا تھا کہ آئی ایس آئی طالبان کی حمایت کررہی ہے۔ ایسے عالم میں جب پاکستان یہ کوشش کررہا ہے کہ افغانستان کو اس ملک میں قیام امن کے عمل کے تعلق سے اسلام آباد کی پالیسیوں کے سلسلے میں اطمینان دلائے افغانستان کے سابق وزیر داخلہ محمد عمر داؤدزی نے بھی کہا ہے کہ اب ہمیں یہ توقع چھوڑدینی چاہیے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے عمل میں مدد کرے گا اور ہمیں نئی راہ اپنانی چاہیے۔ محمدعمر داود زئی نے جو پاکستان میں افغانستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں کہا ہے کہ گذشتہ برسوں کے تجربوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اپنے اھداف کے درپئے ہے اور افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں پاکستان سے تعاون کی امید رکھنا عبث ہے کیونکہ پاکستان کے ایسے مطالبات ہیں کہ افغانستان کی یہ یا کوئی اور حکومت ان مطالبات کو پورا نہیں کرسکتی۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بارہا تاکید کی تھی کہ پاکستان کا ایک مطالبہ ڈیورینڈ لائن کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنا ہے۔
بلاشک دہشتگردی افغانستان اور پاکستان کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اور اس لعنت سے دونوں ملکوں کی قومی سلامتی کو خطرے لاحق ہیں لھذا دونوں ملکوں کے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ اسلام آباد اور کابل دہشتگردی کا مقابلہ کرنے اور اسکی بیخ کنی کے لئے سیکوریٹی اور انٹلیجنس تعاون کریں گے۔ ادھر پاکستانی حکومت پر یہ الزام ہے کہ وہ افغانستان سے دہشتگردی کے خلاف تعاون کرنے کے لئے مراعات اور تاوان کا خواہاں ہے لیکن نہ صرف افغان حکومت بلکہ افغان عوام بھی پاکستان کو مراعات اور تاوان دینے کے مخالف ہیں۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بارہا تاکید کی ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان میں قیام امن کے عمل کو حکومت کابل سے مراعات لینے کےلئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے جبکہ اب تک افغانستان کی کسی بھی حکومت نے پاکستان کے دباؤ کے باوجود طالبان کے مطالبات منظور نہیں کئے ہیں یہانتک کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے جسے اسلام آباد کی پٹھو حکومت سمجھا جاتا تھا وہ بھی پاکستان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے تھے۔ اسی وجہ سے افغانستان میں اس ملک کے قیام امن کے سلسلے اسلام آباد کی پالیسیوں اور طالبان کو راضی کرنے کے لئےاسلام آباد کی کوششوں پر اعتماد نہیں پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے افغانستان کے سیاسی اور سیکورٹی حلقے پاکستان پر دوہرے معیارات اپنانے کا الزام لگاتے ہیں اس صورتحال کے سبب ان حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں طالبان سے زیادہ پاکستان مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ وہ اس عمل سے اپنے اھداف حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بہرحال افغانستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے اور پاکستان کو اسکی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے، اور ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے قیام امن کے عمل میں اسکی مدد کرنا چاہیے نہ یہ کہ قیام امن کے عمل میں خود ایک رکاوٹ بن جائے۔