Apr ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۰ Asia/Tehran
  • افغانستان میں غربت غیر ملکیوں کی سوغات

افغانستان کے صدر نے اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

محمد اشرف غنی نے کابل میں نگرانی اور اتحاد کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ افغانستان میں دوہزار تیرہ میں غربت کی شرح چھیالیس فیصد تھی اور دوہزار چودہ میں بڑھ کر انچاس فیصد ہوگئی ہے۔ صدر اشرف غنی نے مالی اور عدالتی شعبوں میں اصلاحات پر عمل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کابل نے اقتصادی ترقی کے لئے قلیل مدت اور طویل المدت پروگرام اپنے ایجنڈے میں شامل کئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کی نظر میں غربت میں اضافے کے بارے میں صدر اشرف غنی کے بیانات ان مسائل پر توجہ کرنے کے معنی میں ہیں جن میں افغانستان کے عوام برسوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے سقوط اور افغانستان پرامریکہ اور اسکے اتحادیوں کے قبضے کے بعد امریکہ نے عوام فریبانہ وعدے کرتے ہوئے افغان عوام کو جارحین کے خلاف ہر طرح کے جذبات کے اظہار سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ اس زمانے میں امریکہ نے افغانستان میں اپنی موجودگی کے بارے میں ایسا پروپگینڈا شروع کیا تھا گویا وہ اب افغانستان کو ایک آباد اور پرآسائیش ملک میں تبدیل کردے گااور افغان عوام رفاہ و امید سے سرشار نظر آنے لگیں گےلیکن افغانستان پر امریکہ کے قبضے کو پندرہ برس گذرنے کے بعد اب عالمی ادارے اور افغاں حکومت جو رپورٹیں پیش کررہی ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اس ملک میں اقتصادی بحران حل نہیں ہوا ہے بلکہ بے روزگاری اور غربت بدستور افغاں حکومتوں اور عوام کے لئے اہم چیلنجوں کے طور پر باقی ہیں۔ ادھر عالمی حلقوں نے افغانستان کے اقتصادی اور سماجی مسائل حل کرنے کے لئے اربوں ڈالر مدد کی مد میں فراہم کئے ہیں اس حقیقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو افغانستان میں غربت کے جاری رہنے بلکہ اس میں شدت آنے کے اسباب کے سلسلے میں متعدد مسائل بیان کئے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مغربی حلقوں کے پروپگینڈوں اور شوروغل کے باوجود بین الاقوامی امداد مکمل طرح سے افغانستان کی تعمیر نو میں استعمال نہیں ہورہی ہے۔ درایں اثنا افغان حکام کو بین الاقوامی امداد کے خرچ کرنے کے طریقوں پر شدید اعتراض ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک اپےمفادات اور مطالبوں کے مطابق افغانستان میں اپنی امداد خرچ کرتے ہیں اور اس میں سے بہت کم رقم افغاں حکومت کو دی جاتی ہے۔ ادھر افغانستان میں آزاد حلقوں نے کہا ہے کہ افغانستان کو دی جانے والی عالمی مالی امداد میں غبن اور کرپشن کے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں اور اس امداد کو ضایع بھی کیا جارہا ہے۔ افغانستان میں بدامنی اور دہشتگردی میں پھیلاؤ اس بات کا سبب بنا ہے کہ باہر سے دی جانے والی امداد اور داخلی سرمایہ صحیح طریقے سے اس ملک کی تعمیر نو میں نہ لگایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ خشخاش کی کاشت اور منشیات کی پیداوار کے جاری رہنے سے افغانستان میں زراعت میں ترقی نہ ہو اور زرعی زمینیں خشخاش کی کاشت کے کام میں استعمال کی جائیں۔

مغربی حلقے کہتے ہیں کہ افغانستان میں غربت کے جاری رہنے کی ایک وجہ انتظامی اور مالی بدعنوانیاں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ بیرونی امداد غربت ختم کرنے کے مد کے سلسلے میں استعمال ہونے سے پہلے مالی اور انتظامی بدعنوانیوں کے ہاتھوں ختم ہوجاتی ہے اور عملی طور پر اقتصادی منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے پیسہ نہیں بچتا۔ افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نمائندے نے اس مسئلے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو بہت سے چیلنجوں منجملہ انتظامی اور مالی بدعنوانیوں کا بھی سامنا ہے اور حکومت کابل کو عالمی برادری کو مالی اور فوجی امداد جاری رکھنے کے لئے مطمئن کرنا چاہیے۔

افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت نے مالی اور انتظامی بدعنوانیوں کے بارے میں عالمی حلقوں کی بعض تنقیدوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان چینلجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے وسیع کوششیں کرنا شروع کی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت افغانستان ملک میں غربت کے خاتمے کے لئے عالمی برادری کی امداد جاری رہنےکی خواہاں ہے تا کہ دہشتگرد گروہ غربت سے غلط فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش نہ کریں۔

ٹیگس