ایران کے خلاف سعودی عرب کے منفی اقدامات
سعودی عرب ایران کے خلاف بدستور دشمنانہ اقدامات کررہا ہے۔
سعودی عرب کے سول ایوی ایشن ادارے نے ایک بیان جاری کرکے دعوی کیا ہے کہ ایران کی ماھان ایئر نے سعودی عرب کے لئے اپنی بعض پروازوں میں سیکورٹی مسائل کی پابندی نہیں کی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن ادارے کے بیان میں آیا ہے کہ اس کے باعث اس نے ماہان ایئر کو دئے جانے والے ا جازت نامے کالعدم قرار دے دئے ہیں۔
ادھر ایران کی شہری ہوابازی کےادارے کے ایک اعلی عھدیدار ابراہیم مرادی نے سعودی عرب کی ایرلائن کونسل کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد ایران سے سعودی عرب کے لئے کوئی پرواز نہیں گئی ہے اور ایران کی ایر لائنز سعودی فضا کا استعمال نہیں کرتی ہیں۔
ابراہیم مرادی نے وزارت شہر سازی اور ٹرانسپورٹ کی ویب سائٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ماہان ایر پر سعودی عرب میں آنے پر پابندی لگائے جانے کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ سعودی عرب صرف افریقہ کے راستے میں پڑتا ہے اور ایران سے افریقہ کے لئے کوئی براہ راست پرواز نہیں ہے۔ اس عھدیدار نے کہا کہ افریقی ممالک کے لئے خاص پروازوں جیسے سیاسی حکام کی پروازوں کے لئے متبادل روٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ سول ایوی ایشن کے ذرائع نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ تہران کے ساتھ ریاض کے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے مابین تقریبا دیڑھ سو براہ راست پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں جو ہر ماہ ہزاروں زائروں کو سعودی عرب لےجاتی تھیں۔
سعودی عرب کو اس وقت داخلی اور علاقائی سطح پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے جو خود اس نے پیدا کی ہیں لیکن ان مشکلات سے فرار کرنے کے لئے ایران کو ان مسائل اور اپنے غیر منطقی فیصلوں کا ذمہ دار قراردینے کی کوشش کررہا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے جنوری میں روئٹرز کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا کہ ریاض نے تہران میں سعودی سفارتخانے پر ایرانی مظاہرین کے حملے کے بعد سفارتی رد عمل دکھاتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت ختم کردی ہے اور پروازوں کا سلسلہ بھی بند کردیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے بزرگ و مجاہد عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت دے کر شہید کئےجانے کے بعد تہران میں ایرانی مظاہرین میں کچھ خودسر افراد نے سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملہ کردیا تھا۔ اس کےعلاوہ مشہد مقدس میں بھی بعض خود سر افراد نے سعودی عرب کے قونصل خانے پر حملہ کردیا تھا۔اس اقدام کے بعد ایرانی عدلیہ نے خطاکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ہے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب ایران کے خلاف بہانے بنا کر ایران مخالف اقدامات کررہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں داخلی سطح پر عوام کو کچلنا اور یمن پر جارحیت اور داعش جیسے تکفیری اور صیہونی دہشتگرد گروہ کی حمایت وہ سیاسی مسائل ہیں جن کی وجہ سے ریاض غیر منطقی اقدامات کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔
فائننشیل ٹائمز نے اتوار کو ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کے تیل کی برآمدات میں تاخیر ڈالنے کے لئے ایرانی جہازوں کو اپنی ساحلی حدود میں داخل ہونے سے منع کردیا ہے۔
سعودی عرب کے حکام دراصل اپنے خود کے پیدا کردہ مسائل میں گرفتار ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی قبائلی سوچ کو چھپانے اور خود کو علاقے کے بحران ساز اقدامات سے مبرا رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایران پر علاقے میں غیر تعیمری مداخلت کا الزام لگانے سے سعودی عرب کو اپنے مسائل حل کرنے میں کسی طرح کی مدد نہیں ملے گی۔ ان کی مشکل جمہوریت کا نہ ہونا، انتہا پسندی اور توسیع پسندی ہے اور یہ ایسے عالم میں ہے کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مفاہمت اور تعاون چاہتا ہے لیکن سعودی عرب ایران کا ہمسایہ ملک ہونے کے باوجود اس کے خلاف قدم اٹھا رہا ہے۔ اس طرح کے فیصلے اور موقف شاید سعودی حکام کے لئے قلیل مدت میں فائدہ مند ثابت ہوں لیکن اس غیر منطقی اور عبث سلسلے کو جاری رکھنے سے ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔