May ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۹:۵۶ Asia/Tehran
  • افغانستان کی وزارت دفاع کی پاکستان سے درخواست

طالبان سرغنہ ملا اختر منصور کے قتل کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان نے پاکستان سے مزید تعاون کا مطالبہ کیا ہے-

افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے کہا کہ اس ملک کی حکومت اور فوج نے ملامحمد اختر منصور کو بارہا امن مذاکرات میں شامل ہونے کی تشویق دلائی لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا-

جنرل دولت وزیری نے کہا کہ اس بات کے پیش نظر کہ حقانی گروپ پاکستان میں موجود ہے اور القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن اور ملا اختر منصور بھی پاکستان میں ہلاک ہوئے ، بہتر ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے تعاون کریں- ان کے بقول ان لوگوں کے لئے جو امن مذاکرات کو قبول نہیں کرتے آخری راستہ، موت ہے-

پاکستان سے افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی باہمی تعاون کو فروغ دینے کی درخواست ایسے عالم میں سامنے آئی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ میں مختلف ادوار میں کشیدگی پائی جاتی رہی ہے- افغانستان کی نظر میں چار فریقی افغان امن مذاکرات کہ جو ایک امریکی منصوبہ ہے کے پانچ ادوار کے لاحاصل ہونے کی بڑی وجہ پاکستان کا عدم تعاون اور افغانستان کی تبدیلیوں کا سچائی سے سامنا نہ کرنا ہے-

اسی بنا پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں چار فریقی امن مذاکرات کے پانچویں دور کے انعقاد سے ایک روز پہلے کہ جو اتوار کو منغقد ہوا تھا، افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اعلان کیا کہ اس ملک میں امن کا فیصلہ میدان جنگ میں ہوگا- افغانستان کی قومی حکومت کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے دورے کی منسوخی نے سرحدی کشیدگی اور پاکستان سے افغانستان کے اندر میزائلی حملوں نیز کابل کا حالیہ دہشت گردانہ حملہ ان مسائل میں ہے کہ جو کابل اسلام آباد تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہونے کا باعث بنے ہیں-

طالبان سرغنہ ملا اختر منصور کے پاکستان میں قتل ہونے کے بارے میں آنے والی خبروں سے کابل حکومت کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ ایک بار پھر اسلام آباد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے یا انتہاپسند گروہوں کا مقابلہ نہ کرنے کے الزام کو رائے عامہ کے سامنے ثابت کر دیں-

افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان کا پاکستان میں بن لادن اور ملا اختر منصور کے قتل اور اس ملک میں حقانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں بیان ، درحقیقت علاقے میں پاکستان کے دہشت گردی کی اصلی پناہ گاہ میں تبدیل ہوجا نے کے سلسلے میں کابل کے دعؤوں کی ایک بار پھر تکرار ہے-

انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی مسائل میں پاکستان اور افغانستان کا تعاون کوئی نیا موضوع نہیں ہے اور کابل حکام نے اسے با رہا اٹھایا ہے یہاں تک کہ اس پر اسلام آباد کے بعض حکام نے توجہ بھی دی لیکن یہ دو پڑوسی ملک کبھی بھی ان مسائل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کر سکے- بنا برایں موجودہ حالات میں افغانستان کی حکومت کی جانب سے پاکستان سے تعاون کی دوبارہ درخواست لاحاصل ہوگی-

خاص طور پر اس لئے بھی کہ افغانستان اپنے اکثر سیکورٹی مسائل اور دہشت گردانہ حملوں کی جڑ پاکستان کی پالیسیوں کو سمجھتا ہے اور یہ بڑھتا ہوا عدم اعتماد دونوں ملکوں کو مشترکہ تعاون کے راستے پر گامزن نہیں کر سکتا-

ٹیگس