Nov ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۵:۴۳ Asia/Tehran
  • شورای طالبان پاکستان سے افغانستان پہنچ گئی

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ طالبان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد شوری طالبان پاکستان سے افغانستان منتقل ہوگئی ہے۔

 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ طالبان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد شوری طالبان پاکستان سے افغانستان منتقل ہوگئی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اس رپورٹ میں طالبان کے حوالے سے لکھا ہے کہ طالبان کا سرغنہ اور اسکی شوری کے ارکان افغانستان پہنچ کر طالبان کی صفوں میں استحکام لانا چاہتے ہیں۔طالبان کے ایک رہنما نے نیویارک ٹائمز سے اپنا نام نہ ظاہر کئےجانے کی شرط پر کہا ہے کہ شوری طالبان افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند منتقل ہوگئی ہے۔افغان صدر کے ترجمان ہارون چخانسوزی نے اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹلیجنس رپورٹوں سے ابھی معلوم نہیں ہوا ہے کہ شوری طالبان افغانستان منتقل ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شوری طالبان میں سولہ افراد ہیں جو اس گروہ کی روزمرہ کی سرگرمیوں اور اسٹراٹیجی مقرر کرتے ہیں۔اگر یہ خبر صحیح  ہوتو شاید اسلام آباد اور کابل کے مابین ایک دہائی سے حل نہ شدہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔افغانستان کی حکومت نے ہمیشہ یہ بات کہی تھی کہ شوری طالبان پاکستان میں ہے اور پاکستان اپنی سرزمین سے طالبان کی کاروائیوں کی ھدایت کررہا ہے۔ البتہ پاکستان کی حکومت نے طالبان کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اگر شوری طالبان کے افغانستان منتقل ہونے کی خبر کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے جبرا نکالے جانے یا اختیارا افغانستان آنے کے بارے میں دو احتمال پیش کئے جاسکتے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے علاقائی اور عالمی دباؤ کے تحت اور اپنے قومی مفادات کے مطابق شوری طالبان سے مطالبہ کیا ہو کہ وہ پاکستان چھوڑ کر افغانستان چلی جائے۔گذشتہ برسوں میں افغانستان کے علاوہ امریکہ سمیت بہت سے مغربی ملکوں نے پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا تھا کہ وہ طالبان دہشتگرد گروہ کے سینئر رہنماوں کی پناہ گاہیں بند کردے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ سنہ دوہزار گیارہ میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکہ کی اسپیشل فورس نے القاعدہ کے سرغنے کو ہلاک کردیا تھا۔پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا انکشاف ہونے اور ہلاک ہونے کے بعد پاکستان پرروز بروز دباؤ بڑھتا گیا لھذا یہ احتمال دیا جاسکتا ہےکہ پاکستان نے بیرونی دباؤ گھٹانے اور عالمی سطح پر اعتماد سازی بالخصوص افغانستان میں سرگرم عمل فریقوں کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اور وہائٹ سے مزید امداد حاصل کرنے کے لئے، کچھ تحفظات کے باوجود اسلام آباد نے شورای طالبان سے کہا ہےکہ وہ پاکستان کی سرزمین چھوڑ کر افغانستان چلی جائے۔ اس سناریو میں ممکن ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جنگ و قیام امن کے سلسلے میں شدید اختلافات پیدا ہوگئےہوں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ شورای طالبان مختلف وجوہات سے جن میں افغانستان میں اپنی سرگرمیون میں تیزی لانا بھی شامل ہے، اس گروہ نے نئے حالات کے تحت خود کوکامیاب قراردیا ہو اور پاکستان سے افغانستان نقل مکانی کردی ہو ۔ دونوں سناریو میں خواہ شورای طالبان کو زبردستی پاکستان سے نکالا گیا ہو یا وہ خود اپنے اختیار سے پاکستان کی سرزمین چھوڑ کر افغانستان آئی ہو یہ بات تو مسلم ہے کہ طالبان پر پاکستان کے اثر ونفوذ میں تبدیلیاں آئی ہیں بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ کچھ دنوں پہلے پاکستانی وزارت خارجہ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ افغانستان میں طالبان سے رابطے میں ہے۔

 

 

ٹیگس