Apr ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۷:۳۱ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف سعودی عرب کی زہر افشانی

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اپنے دورہ ماسکو میں کہا ہے کہ سعودی عرب شام میں ایران اور حزب اللہ لبنان کی موجودگی کا مخالف ہے-

سعودی عرب کے حکام ایسے میں علاقے میں ایران کی موجودگی کو مداخلت پسندانہ بتا رہے ہیں کہ کہ ان کو پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکنے ، اور گذشتہ چند برسوں کے دوران علاقے میں انہوں نے جو صورتحال پیدا کی ہے اس کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے- دو سال سے زیادہ عرصے سے یمن کے نہتے اور بے گناہ عوام کے خلاف سعودیوں کے جارحانہ حملے اور جنگی جرائم اور ان وحشیانہ حملوں کے تعلق سے آل سعود جو بے بنیاد دعوے کر رہی ہے یہ سب کچھ  آل سعود حکومت کی پالیسیوں کی آشکارہ شکست و ناکامی کی علامت کے سوا اور کچھ نہیں ہے-  سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کچھ عرصہ قبل ریاض میں اپنے فرانسیسی ھم منصب کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ اس نے ایران کے حامیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے یمن میں مداخلت کی ہے - انہوں نے ماسکو میں بھی یہی دعوی دوسرے انداز سے کیا ہے-

سعودی حکام کی جانب سے مسلسل پروپگنڈے اور بے بنیاد دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن یہ پروپگنڈے اور دعوے حقیقت کو تو پنہاں نہیں کرسکتے - حقیقت تو یہ کہ ہے انحرافی اور انتہا پسند گروہوں کا وجود، وہابی افکار کی دین ہے جو سعودی خاندان کی حکومت کے سائے میں پروان چڑھ رہے ہیں اور اسی وہابی طرز فکر کے نتیجے میں مغربی ایشیاء اور شمالی افریقہ تک کے علاقوں میں تکفیری دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے- ان اقدامات کا مقصد شام ، عراق اور یمن کو تقسیم کرنا ہے اور اسی انحرافی فکر کے نتیجے میں روزانہ بہت سے بے گںاہ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ  دھو رہے ہیں-

اسلامی جمہوریہ ایران ، مداخلت کرنے والی طاقتوں سے کسی طرح کا خوف کئے بغیر، علاقے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و سلامتی کے قیام کے لئے تمام ترکوششیں بروئے کار لا رہا ہے اور اس سلسلے میں اسے سعودی عرب کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے- ایران کبھی بھی ان ملکوں کے مکر و فریب میں نہیں آئے گا کہ جو خود دہشت گردوں کے حامی ہیں اور انہوں نے نام نہاد اتحاد بنا رکھا ہے- کیوں کہ علاقے کے حقائق کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ یہی ممالک منجملہ سعودی عرب ، دہشت گردی سے مقابلے کی راہ میں اہم ترین رکاوٹ ہیں -

سعودی حکام بظاہرعلاقے کی صورتحال کے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن حقیقت ان کے دعوے کے برخلاف ہے- سوال یہ ہے کہ کیوں سعودی عرب ، القاعدہ اور داعش دہشت گرد گروہوں حمایت کر رہا ہے؟ کیوں سعودی عرب یمن، شام اور عراق پر تسلط جمانے کے درپے ہے؟ کیوں اس ملک کے حکام مسلسل ایران کے خلاف  صف بندی ، پروپیگنڈہ اور تفرقہ اندازی میں مصروف ہیں-

ان تمام سوالوں کے جواب کا خلاصہ اس میں ہوتا ہے کہ سعودی عرب درحقیقت خود مشکلات کو وجود میں لانے والا ملک ہے نہ کہ مشکلات کی راہ حل تلاش کرنے والا ہے- سعودی عرب کا شمار عرب ملکوں کے درمیان سب سے زیادہ ظالم اور جارح حکومتوں میں ہوتا ہے اور اس کے رویے جمہوریت مخالف اور وہابی افکار کے علاوہ ہر چیز کے مخالف ہیں- سعودی عرب کے حکام کی حالت اس بیمار کی مانند ہے کہ جس کی صحت دن بہ دن روبہ زوال ہو - اس ملک کا سیاسی نظام بھی پورے طور پر ناکارہ ہوچکا ہے- 

ریاض کے لئے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسے اپنی ساکھ متزلزل نظر آرہی ہے اور اب اسے شام میں اپنی پوزیشن کے کمزور ہونے کا یقین ہوچکا ہے- سعودی عرب کی اب کوشش ہے کہ روس سے ہاتھ ملا کر امریکہ اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرے اور ایران کے خلاف الزام تراشی کے ذریعے اپنے دوہرے رویے کی توجیہ کرے-

حققیت میں علاقے کو سعودی عرب جیسے ملک کا سامنا ہے کہ جو دوسروں کے ملکوں کے امور میں مداخلت کر رہا ہے اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے- اس نے علاقے کی معاشی ترقی کو مسائل و مشکلات سے دوچار کر دیا ہے- اس لئے سعودی عرب میں دہشت گردی سے مقابلے کا کوئی محرک نہیں پایا جاتا ، جس طرح سے امریکہ نے کبھی بھی دہشت گردی کو ختم کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ہے بلکہ وہ داعش جیسے گروہ کی حمایت کرکے دیگر دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے میں مدد کر رہا ہے-     

ٹیگس