May ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۵:۲۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی مسلسل ناکامیاں آل سعود کے لئے ڈراؤنا خواب

آل سعود حکومت کو اپنی داخلی اور علاقائی پالیسیوں میں مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ آل سعود کے پر تشدد اقدامات کا نتیجہ صرف اس حکومت کے خلاف ملکی سطح پر احتجاج اور علاقے میں اس کے خلاف استقامت کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

آل سعود حکومت کی سیکورٹی فورسز نے اپنے تشدد کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بدھ کے دن مشرقی سعودی عرب میں واقع صوبہ القطیف میں شیخ نمر باقر النمر کے آبائی شہر العوامیہ میں حملہ کر کے ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور سولہ افراد کو زخمی کر دیا۔

15 اکتوبر سنہ 2015 کو آل سعود کی عدالت نے قومی سلامتی کے خلاف اقدام انجام دینے کے بے بنیاد الزام لگا کر آیت اللہ شیخ باقر نمر کو سزائے موت سنائی تھی اور جنوری سنہ 2016 میں اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ آل سعود کے اس بہیمانہ اقدام کی بنا پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے آل سعود کے عدالتی نظام کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور سعودی عرب کے اندر بھی اس کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے کئے  گئے۔

سعودی عرب پر ایک فرقہ پرست خاندان کا تسلط ہے۔ اس خاندان نے انہی غیر انسانی اقدامات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ خاندان شیعہ آبادی والے دیہات المسورہ کی تعمیر نو کے بہانے اور ملک کے مشرقی علاقے میں اہل تشیع کی آبادی اور آثار کو مٹانے کے لئے اس علاقے کو سرے سے نیست و نابود کرنے کے درپے ہے۔

کئی مہینوں سے یہ دیہات ظالم آل سعود حکومت کے خلاف اہل تشیع کی جد وجہد کے جاری رہنے کی علامت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سعودی عرب کے داخلی حالات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ آل سعود حکومت اپنے پر تشدد اقدامات میں شدت پیدا کر کے خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ان اقدامات کے باوجود اس حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجات میں نہ صرف کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

آل سعود حکومت کی داخلی پالیسی عوام کے سیاسی اور شہری حقوق کی پامالی پر استوار ہے جبکہ خارجہ پالیسی خطے میں اغیار کے مفادات کے حصول نیز مغرب خصوصا امریکہ کی قربت حاصل کرنے پر استوار ہے۔ جس کی وجہ سےمغرب خصوصا امریکہ کا سعودی عرب پر سیاسی، فوجی اور اقتصادی تسلط قائم ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب خطے میں مغرب کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں ان کا آلۂ کار بن چکا ہے۔ یہ تمام امور آل سعود کی پٹھو حکومت سے سعودی عرب کے عوام کی نفرت کا موجب بنے ہیں۔

دریں اثناء آل سعود کی ناکامی سعودی عرب کے عوام کے احتجاج اور اعتراض کو روکنے تک ہی محدود نہیں رہی ہے بلکہ اس ناکامی کے اثرات یمن میں آل سعود کی مداخلت پسندی میں بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ایسی مختلف رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یمنی رضاکاروں کی حمایت یافتہ اس ملک کی فوج نے سعودی جارحین کو کاری ضربیں لگائی ہیں جس سے سعودی عرب کی شکست پہلے سے زیادہ نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔ اس سلسلے میں یمنی فوج کے پریس آفس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری کے اوائل سے تیس اپریل تک یمنی سیکورٹی فورسز نے سعودی عرب کے سات سو سے زیادہ فوجی گاڑیاں، طیارے، ہیلی کاپٹر اور ٹینک تباہ کردیئے ہیں۔

یمن کے عوام نے دو سال سے زیادہ عرصے سے سعودی لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں استقامت سے کام لیتے ہوئے سعودی عرب کی سرزمین میں سعودی فوجیوں کو اور یمن کی سرزمین میں آل سعود کے ایجنٹوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

سعودی اتحاد کے پاس ہر طرح کا فوجی سازوسامان ہے اور اسے امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے لیکن اس کے باوجود اسے جنگ یمن میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے چھبیس مارچ سنہ 2015 ع سے یمن کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔

سعودی عرب کو توقع تھی کہ اس جنگ میں بہت جلد عوامی تحریک انصاراللہ کو شکست ہوگی اور یمن کے مفرور اور مستعفی صدر عبدربہ منصور ہادی اس ملک کا اقتدار دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔لیکن یہ جنگ جلدی ختم نہیں ہوئی۔ اسے شروع ہوئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب یہ ایک نفسیاتی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے۔

بہرحال مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ خطے کے حالات سے داخلی اور علاقائی سطح پر آل سعود کی ناکامیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرون وسطی کی آل سعود حکومت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور یہی حقیقت آل سعود کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔

ٹیگس